معاشرت - اخلاق و آداب

Pakistan

سوال # 149144

میں ملک سے باہر کام کر رہاہوں ،سال بعد چھو ٹی ملتی ہے ، اس پر بیوی راضی نہیں ہے اور اگر بیوی کی بات مانتا ہوں پھر ابو ناراض ہوجاتے ہیں ، میں کس کی بات مانوں؟

Published on: Mar 21, 2017

جواب # 149144

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:  719-601/H=6/1438



بہتر یہ ہے کہ جلد از جلد انتظام کرکے بیوی بچوں کو اپنے پاس رکھئے اور جب تک یہ انتظام نہ ہو تو چار ماہ میں ایک مرتبہ بیوی بچوں میں آکر ادائے حقوق کی ترتیب بنائیے، والد صاحب کی اگر اس پر ناراضی ہو تو وہ ناراضی بے محل ہے، آپ ان کی خوشامد درآمد اور خدمت کرکے راضی رکھنے کی فکر کرتے رہئے اور ان کے حق میں دعاء کا اہتمام بھی جاری رکھئے البتہ والد صاحب کی بے وجہ ناراضگی کی بنیاد پر بیوی بچوں کی حق تلفی درست نہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات