معاشرت - اخلاق و آداب

Bangladesh

سوال # 149099

میرے ایک رشتہ دار بینک میں کام کررہے ہیں سکوریٹی کارڈ کے طورپر، اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ یہ کم پیسے والی ملازمت ہے، اب ان کو آفر ملا ہے کہ ان کو پانچ سو روپئے اضافی ملیں گے اگر وہ بڑی مونچھ رکھتے ہیں جیسے کہ روسی لیڈر جوسیف سیٹلن رکھتے تھے۔ ان کی داڑھی نہیں ہے، مقامی امام نے کہا کہ پانی پینے تک پانی مونچھ کو ٹچ کرے گا، کیوں کہ اس سے اوپر کے ہونٹ چھپ جائیں گے، تو پینے کا پانی شراب کی طرح حرام ہوجائے گا، کیوں کہ یہ مونچھ کو ٹچ( چھو)رہاہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا کوئی ایسا فتوی ہے کہ پانی یا پینے کا پانی مونچھ کو ٹچ کرے گا وہ شراب کی طرح ہوجائے گا؟
(۲) اگر وہ بڑی مونچھ رکھتے ہیں توکیا ان کو فاسق کہا جائے گا؟ ہم فکر مند ہیں، کیوں کہ ہم امام کی موجودگی میں ان ہی کی امامت میں نماز پڑھتے ہیں۔وہ قرآن بہت اچھا پڑھتے ہیں۔ براہ کرم، قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیں۔

Published on: Apr 19, 2017

جواب # 149099

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 736-713/sn=7/1438



پانی مونچھ کو ٹچ کرنے کی وجہ سے وہ شراب کی طرح حرام ہوجائے یہ بات تو درست نہیں ہے؛ البتہ بڑی مونچھ رکھنا یہ حدیث کے خلاف ہے، متعدد احادیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈاڑھی کو بڑھانے اور مونچھوں کو خوب باریک کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ أنہکوا الشوارب وأعفوا اللحی (بخاری عن ابن عمر، رقم: ۵۸۹۳)؛ اس صورتِ مسئولہ میں محض اضافی تنخواہ کے لیے ایک غیرمسلم لیڈر کی طرح بڑی بڑی مونچھیں رکھنا درست نہیں ہے۔



(۲) ڈاڑھی نہ رکھنے کی وجہ سے تو وہ پہلے ہی سے ”فاسق“ ہے اب مونچھیں بڑی رکھنے کی وجہ سے ”فسق“ میں اضافہ ہوجائے گا، اور فقہائے کرام نے صراحت کی ہے کہ ”فاسق“ کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہوتی ہے گو وہ قرآن کریم اچھا پڑھتا ہو۔ ․․․ ومفاسدہ کون الکراہة في الفاسق تحریمیة (حاشیة الطحطاوي علی المراقی)؛ لہٰذا آپ حضرات اس کے علاوہ کسی باشرع آدمی کے پیچھے نماز پڑھا کریں، اس کے پیچھے نماز مکروہ ہوگی۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات