معاشرت - اخلاق و آداب

Pakistan

سوال # 148235

حضرت میں نے یہ پوچھنا ہے کہ میرے شیخ کہتے ہیں کہ بچے کے ستر کی حفاظت کرو ،انہوں نے اپنے بیان میں اس کا ذکر کیا ہے ،میرا بیٹا 2 مہینے کا ہونے والا ہے اب میں کوشش کرتی ہوں کہ اس کے ستر کی حفاظت کروں، پر مجھے یہ پوچھنا ہے کہ اکثر کوتاہی ہی ہو جاتی ہے مطلب کئی دفعہ بچے کو کپڑے تبدیل کرواتے ہوئے کوئی آجائے تو حفاظت نہیں ہوتی۔ الحمد للہ مجھے اپنے شیخ کے کسی حکم پر اعتراض نہیں مجھے ، صرف یہ پوچھنا ہے کہ کیا یہ کبیرہ گناہ ہو گا اگر میں نے لاپرواہی برتی۔ تقویٰ کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
(۲) میں سلوک میں چلتے چلتے بالکل غفلت کا شکار ہو جاتی ہوں، الحمدللہ پہلے جیسا گناہ کی طرف تو نہیں آتی پر وہ کوشش اور لگن جو سالک کو کرنی چاہیے وہ نہیں کرتی اس صورتحال میں مہینوں بہتری نہیں آتی اب پہلے جیسی صحت بہی نہیں رہی کیا کروں۔
(۳) کیا اپنے بیٹے کو شیروانی پہنا سکتی ہوں۔ میں پینٹ شرٹ نہیں پہنانا چاہتی لیکن اگر شیروانی یا کوئی اور لباس ہو تو پہنا سکتے ہیں؟

Published on: Feb 23, 2017

جواب # 148235

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 541-570/L=5/1438



 



(۱) بالکل چھوٹے بچے کے ستر میں اتنی سختی نہیں ہے؛ اس لیے اگر کپڑا تبدیل کرواتے وقت کوئی آجائے تو اس پر آپ گنہ گار نہ ہوں گی۔



(۲) اس سلسلے میں آپ اپنے شیخ سے ہی رجوع کریں یہ بہتر ہوگا۔



(۳) جی ہاں! شیروانی وغیرہ پہناسکتی ہی، لباس میں اس بات کا خیال رکھیں کہ وہ صلحاء کا لباس ہو تاکہ بچہ شروع سے ہی اس کا عادی بن جائے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات