معاشرت - اخلاق و آداب

Pakistan

سوال # 147826

سوال: ہم مختلف اقسام کی عمارتوں کی ڈیزائننگ اور تعمیرات کے کام سے منسلک ہیں۔ جس میں مندرجہ ذیل باتوں کا خیال ضروری ہے کیونکہ جب عمارتیں بن جائیں اور اس میں اس قسم کا کوئی سقم رہ جائے تو ہمیشہ کے لئے ہو جاتا ہے ۔آج کل جبکہ عینِ قبلہ معلوم کرنے میں کوئی تکنیکی دشواری نہیں تو یہ فرمائیے کہ سوال ۱: بیت الخلاء میں قدمچہ بناتے ہوئے قبلہ رخ سے کتنے درجے انحراف (سامنا اور پیٹھ) کرنے سے بیت الخلاء کا ستعمال شرعاً درست ہو جائے گا؟
سوال۲: اسی طرح غسل کی جگہ بناتے ہوئے بھی قبلہ رخ سے انحراف کا درجہ متعین فرما دیں تا کہ بنانا اور استعمال کرنا شرعاً صحیح ہو جائے ؟
سوال۳: کمروں میں پلنگ ڈالتے وقت قبلہ رخ سے کتنے درجے انحراف کیا جائے کہ لیٹتے وقت پاؤں قبلہ رخ نہ ہوں؟

Published on: Feb 18, 2017

جواب # 147826

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 338-344/sd=5/1438



 استنجے میں قبلہ کی طرف چہرہ کرنا یا پیٹھ کرنا سخت ممنوع ہے، اس لیے سب سے بہتر صورت یہ کہ بیت الخلاء میں قبلہ کے بالکل مخالف سمت میں قدمچہ بنائے جائیں،جیسے ہندوستان میں قبلہ کا رخ جانب مغرب ہے، لہذا جانب شمال یا جانب جنوب قدمچہ بنائے جائیں تاہم اگر قبلہ رخ سے ۴۵ /درجہ سے زائد انحراف ہوجائے، تب بھی صحیح ہے۔



(۲) غسل خانہ کو بھی قبلہ رخ کی مخالف سمت میں بنایا جائے۔



(۳) کمروں میں پلنگ بھی جانب شمال یا جنوب ڈالا جائے، تاکہ پاوٴں قبلہ رخ نہ ہوں۔ 



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات