معاشرت - اخلاق و آداب

India

سوال # 146812

ہم غیر مسلموں کو سلام کر سکتے ہیں یا نہیں ؟اگر وہ سلام کرے تو ہم کیا جواب دیں۔

Published on: Dec 22, 2016

جواب # 146812

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 195-171/N=3/1438



 



غیر مسلموں کوالسلام علیکم کہہ کر سلام نہیں کرسکتے، درست نہیں، یہ سلام مسلمانوں کے ساتھ خاص ہے اور اس میں دنیا وآخرت دونوں جہاں کی سلامتی کی دعا ہے۔ اور اگر ضرورت ومجبوری ہو تو غیر مسلم سے یہ کہے کہ السلام علی من اتبع الھدی یا صرف خیریت وغیرہ کے الفاظ کہہ دے۔ ویسلم المسلم علی أھل الذمة لو لہ حاجة إلیہ وإلا کرہ ھو الصحیح ،……وأکثر المتون بلفظ: ”یسلم“فأولتھاھکذا، ولکن بعض نسخ المتن : ”ولا یسلم“ وھو الأحسن الأسلم، فافھم (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الحظر والإباحة، باب الاستبراء وغیرہ،۔ فصل فی البیع وغیرہ، ۹: ۵۹۰، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، قولہ:”ویسلم المسلم علی أھل الذمة“:…… فی الشرعة: إذا سلم علی أھل الذمة فلیقل: السلام علی من اتبع الھدی، وکذلک یکتب فی الکتاب إلیھم،وفی التاتر خانیة: قال محمد:إذا کتبت إلی یھودي أو نصراني في حاجة فاکتب: السلام علی من اتبع الھدی اھ۔ قولہ: ”لو لہ حاجة إلیہ“:أي: إلی الذمي المفہوم من المقام، قال فی التاترخانیة: لأن النھي عن السلام لتوقیرہ ولا توقیر إذا کان السلام لحاجة۔……۔قولہ:”وھو الأحسن“:لأن الحکم الأصلي المنع والجواز لحاجة عارض، وقولہ:”الأسلم“:لعل وجھہ أنہ إذا لم یسلم مطلقاً لایقع في محذوربخلاف ما إذا سلم مطلقاً(رد المحتار)۔



 (۲): اور اگر کوئی غیر مسلم سلام کرے تو جواب میں صرف وعلیکم کہہ دے، پورا وعلیکم السلامنہ کہے؛ کیوں کہ یہ جواب بھی مسلمانوں کے ساتھ خاص ہے۔ ولو سلم یھودي أو نصراني أو مجوسي علی مسلم فلا بأس بالرد ولکن لا یزید علی قولہ: وعلیک کما فی الخانیة (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الحظر والإباحة، باب الاستبراء وغیرہ،۔ فصل فی البیع وغیرہ، ۹: ۵۹۱، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات