معاشرت - اخلاق و آداب

India

سوال # 1375

میں ایک کتاب پڑھ رہا تھا ، اس کا نام ہے فتاوی رشیدیہ۔ یہ فتووں کی کتاب ہے اور اس کے مصنف الحاج مولانا رشید احمد گنگوہی صاحب ہیں۔ اس میں کسی نے یہ سوال کیا ہے کہ تعظیم دین دار کو کھڑا ہونا درست ہے اور ایسے شخص کا پاؤں چومنا درست ہے۔ اگر بات صحیح ہے کہ دین دار شخص کی تعظیم کو کھڑا ہونا صحیح ہے تو بریلوی حضرات کا ہم رد کیوں کرتے ہیں؟ ہم میں ان میں کیا فرق ہے؟جب کہ حدیث کا یہ مفہوم ہے کہ جو چاہے کہ کوئی میری تعظیم کو کھڑا ہو تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے۔ میری رہ نمائی فرمائیں۔

Published on: Sep 17, 2007

جواب # 1375

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 476/ م= 471/م


 


?فتاویٰ رشیدیہ? کا مذکورہ فتویٰ درست ہے، قابل تعظیم پابند شرع دین دار کے اکرام میں کھڑا ہونا جائز یعنی مباح ہے اور حدیث شریف سے ثابت ہے۔ چنانچہ سنن ابوداوٴد میں ام الموٴمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے: ?إذا دخلت علیہ فاطمة رضي اللہ عنھا قام إلیھا، وکان إذا دخل علیہ صلی اللہ علیہ وسلم قامت إلیہ? (کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لاتیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوجاتے اور جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لاتے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کھڑی ہوجاتیں) رہی وہ حدیث جس کا آپ نے حوالہ دیا ہے یعنی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد: ?من سرّہ أن یتمثل لہ الرجال قیامًا فلیتبوأ مقعدہ من النار? (رواہ الترمذي و أبوداوٴد) یہ یا اس کے علاوہ دیگر احادیث جن میں ممانعت آئی ہے اس سے مراد قیام کی وہ صورت ہے کہ ایک شخص بیٹھا رہے اور لوگ اس کے سامنے کھڑے رہیں جیسا کہ عجمیوں کا اُس زمانہ میں طریقہ تھا یا مراد یہ ہے کہ آدمی کی خواہش اور چاہت ہو کہ لوگ اس کے لیے کھڑے ہوں جیسا کہ حدیث میں ? من سرّہ ? (جسے خوشی ہو) کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ صورت بلاشبہ حرام اور ممنوع ہے۔ پس جب معلوم ہوگیا کہ دین دار کے اکرام میں کھڑا ہونا امر مباح ہے تو اس کو مباح ہی کے درجے میں رکھنا چاہیے۔ واجب یا فرض کی طرح اس کا التزام کرنا کہ نہ کھڑے ہونے والوں کو لوگ برا سمجھنے لگیں، جیسا کہ بریلویوں کا طریقہ ہے درست نہیں۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات