India

سوال # 69847

کیا فرماتے ہیں مفتیان حضرات مسئلہ ذیل میں
(۱) قربانی کے نصاب میں ایسی اشیاء جو کبھی کبھی استعمال کی جاتی ہے جیسے عمدہ کپڑے وغیرہ تو اسکو نصاب میں شمار کیا جائے گا؟ (۲) نیز مہنگے موبائل،(۳) شو کیس کی زینت بننے والے برتن کو بھی نصاب میں شامل کیا جائے گا؟

Published on: Nov 1, 2016

جواب # 69847

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 1165-1238/SN37=1/1438

(۱) نہیں، یہ حاجتِ اصلیہ میں داخل ہیں۔

(۲) مہنگا موبائل جو آدمی استعمال کے لیے خریدتا ہے اس کا بھی شمار ”نصاب“ میں نہ ہوگا۔

(۳) اگر یہ برتن محض زینت کے لیے ہیں استعمال کے لیے نہیں تو یہ ”نصاب‘ ‘ میں شامل ہوں گے؛ کیوں کہ محض زینت کی چیز حاجتِ اصلیہ میں شامل نہیں ہوتی۔ مستفاد از: وسئلت عن المرأة ہل ہي تصیر غنیّة بالجہاز الذي تزف بہ إلی بیت زوجہا، والذي یظہر مما مرّ أن ما کان من أثاث المنزل وثیاب البدن وأواني الاستعمال مما لابد لأمثالہا فہو من الحاجة الأصلیة ومازاد علی ذلک من الحلي والأواني والأمتعة التی یقصد بہا الزینة إذا بلغ نصاباً (درمختار مع الشامی: ۳/۲۹۶، ط: زکریا) نیز دیکھیں: خیر الفتاویٰ: ۳/ ۴۲۷، ط: زکریا) ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات