Pakistan

سوال # 68802

زکوة کے لیے تو سونے چاندی نقدی اور جانوروں میں نصاب مقرر ہے اور زمین میں پیداوار پر زکوة ہے قربانی کے لیے بقیہ نصاب تو وہی ہے لیکن زمین کی کتنی مقدار مقرر ہے قربانی کے لیے یعنی کتنی زمین کا مالک قربانی کرے گا؟

Published on: Sep 3, 2016

جواب # 68802

بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa ID: 1060-991/SN=11/1437

اگر کسی کے پاس اتنی زائد زمین (یعنی جس کی پیداوار پر گذارہ موقوف نہ ہو یاوہ زمین جو ایسے ہی خالی پڑی ہو) ہے جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ (۶۱۲/ گرام ۳۶۰/ ملی گرام ) چاندی کے برابر یا اس سے زائد ہو شرعاً اس پر قربانی واجب ہے۔ (مستفاد از بہشتی زیور: ۳/۳۴، مسئلہ: ۳، اختری، فتاوی ہندیہ ۱/۲۱۸، الباب الأول في تفسیر الحج، ط: زکریا)

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات