Pakistan

سوال # 6215

مہربانی فرما کر عقیقہ پر روشنی ڈالیں۔ اورکیا بچوں کا عقیقہ کرنا لازمی ہے اور کس عمر تک کرسکتے ہیں؟

Published on: Jul 26, 2008

جواب # 6215

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 723=675/ ل


 


جب بچہ پیدا ہو تو اس کی ولادت کے ساتویں دن اگر لڑکا ہو تو دو بکرے یا بڑے جانور سے دو حصے اور لڑکی کے لیے ایک بکرا یا بڑے جانور سے ایک حصہ ذبح کردیا جائے، عقیقہ کا ثبوت حدیث سے ہے ، عقیقہ کے بعد لڑکا بہت سے امراض سے محفوظ رہتا ہے، حدیث شریف میں ہے، الغلام مرتہن بعقیقتہ یذبح عنہ یوم السابع ویسمی ویحلق رأسہ یعنی بچہ اپنے عقیقہ کے بدلے میں مرہون ہوتا ہے، لہٰذا ساتویں دن اس کی طرف سے جانور ذبح کیا جائے اور اس کا نام طے کرلیا جائے، نیز اس کا سرمنڈوایا جائے۔ مرہون کے بہت سے مطلب بیان کیے گئے ہیں، جن میں یہ بھی ہے کہ عقیقہ کے بغیر بچہ سلامتی نیز خیر و برکات سے محروم رہتا ہے، یعنی جب تک عقیقہ نہ ہو مرض کے قریب اور محافظت سے دور رہتا ہے۔


(۲) عند الاحناف عقیقہ مسنون ومستحب ہے۔


(۳) عقیقہ کا مستحب طریقہ یہ ہے کہ ساتویں روز کیا جائے،اگر ساتویں روز نہ ہو تو چودہویں روز یا اکیسویں روز کرے، بغیر کسی مجبوری کے اس سے زیادہ تاخیر نہ کرے، البتہ اگر اکیسویں روز عقیقہ نہ کرسکا تو بعد میں جب چاہے کرے، اس کی گنجائش ہے۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات