India

سوال # 165288

قربانی کے گوشت کے بارے میں
حضرت مفتی صاحب! قربانی کا گوشت جو تین حصہ تقسیم کیا جاتا ہے ۔ ایک حصہ اپنے گھر کے لئے اور دوسرا حصہ رشتہ داروں کے لئے اور تیسرا حصہ محلہ میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
اب میرا سوال یہ ہے کہ جو تیسرا حصہ محلہ والوں کو تقسیم کیا جاتا ہے وہ ہر قربانی کرنے والا شخص اپنا تیسرے حصے کا گوشت ایک جگہ جمع کرتا ہے پھر وہی گوشت محلہ کے ہر گھر میں تقسیم کیا جاتا ہے چاہے وہ شخص قربانی کرنے والا ہو یا نہ ہو۔ اب یہ گوشت قربانی کرنے والے شخص کو لینا کہاں تک صحیح ہے؟ حوالہ کے ساتھ جواب دیں تو مہربانی ہوگی۔

Published on: Oct 6, 2018

جواب # 165288

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 47-38/H=1/1440



اس حد تک تو صحیح ہے کہ صاحب قربانی خود بھی اور اس کے گھر والے بھی اس گوشت میں سے کھالیں تو کچھ گناہ نہ ہوگا اگر آپسی رضامندی و خوشی سے اصحاب قربانی غرباء والا حصہ جمع کردیتے ہیں اور پھر کچھ لوگ محلہ وغیرہ میں اس کو تقسیم کرنے کا انتظام کرلیتے ہیں تو اس میں بھی کچھ گناہ تو نہیں بلکہ گنجائش ہے تاہم ہر قربانی کرنے والا غرباء والے حصہ کو خود یا اپنے بچوں وغیرہ کے ذریعہ تقسیم کرادیا کرے تو بہتر ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات