india

سوال # 160756

کیا بیٹے کا عقیقہ باپ ہی کرا سکتا ہے؟ دادا نہیں کرا سکتا ؟

Published on: Apr 29, 2018

جواب # 160756

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:915-664/sn=8/1439



اولاد کی کفالت ونان نفقے کا انتظام چونکہ اصولاً باپ پر ہی ہے؛ اس لیے اصل تو یہی ہے کہ باپ خود عقیقہ کرے؛ باقی اگر باپ کی اجازت سے دادا (یا نانا) عقیقہ کردے تو اس میں بھی شرعاً کوئی حرج نہیں ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں نواسوں سیدنا حضرت حسن اور سیدنا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی طرف سے عقیقہ کیا تھا، کتب حدیث میں اس کی صراحت ہے۔ عن ابن عبّاس أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن الحسن والحسین کبشًا کبشًا․ (ابوداوٴد، رقم: ۲۸۴۱) وفي روایة النسائي کبشین کبشین․



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات