India

سوال # 159837

کسی نے عقیقے کی مجلس میں کہا کہ بڑے جانور کے سات حصے کرنا صحیح نہیں ہے یہ کہیں سے ثابت نہیں۔ برائے مہربانی دلائل سے اسکی وضاحت فرمائیں۔

Published on: May 1, 2018

جواب # 159837

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:860-94T/L=8/1439



عقیقہ اور قربانی دونوں اکثر احکام میں باہم مشترک ہیں اس لیے جس طرح بڑے جانور میں قربانی کے سات حصے درست ہیں اسی طرح عقیقہ کے جانور کے اندر بھی سات حصے درست ہیں، جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس کا ثبوت نہیں ہے ان کا کہنا بالکل غلط ہے، حضرات فقہائے کرام نے اس مسئلہ کو ”البقرة عن سبعة والجزور عن سبعة“ والی حدیث سے مستنبط کیا ہے، طریقہ استنباط اس طرح ہے کہ ایک بقر اور ایک اونٹ سات کی طرف سے کافی ہے اور شریعت کے قاعدہ اور احادیث کی تصریح سے یہ ثابت ہے کہ سبع بدنہ (بڑے جانور کا ساتواں حصہ) قائم مقام ایک شاة (بکری) کے ہے پس جب عقیقہ میں ایک شاة (بکری) کافی ہے تو سبع بدنہ (بڑے جانور کا ساتواں حصہ) بھی ضرور کافی ہوگا اور جب کہ قربانی میں جو کہ واجب ہے سبع بدنہ (بڑے جانور کا ساتواں حصہ) کافی ہے تو عقیقہ میں جو کہ واجب بھی نہیں کیسے کافی نہ ہوگا؟ نیز فقہاء ومجتہدین کا قیاس بھی قابل حجت ہوتا ہے، لہٰذا یہ کہنا کہ یہ ثابت نہیں بالکل غلط ہے اور اس کا ثبوت قیاس ہی سے نہیں ہے بلکہ احادیثِ رسول، اقوالِ صحابہٴ کرام، اور چاروں ائمہ کی کتب فقہ وفتاوی سے بھی یہ بات ثابت ہے کہ گائے اور اونٹ سے جیسے قربانی درست ہے اسی طرح عقیقہ بھی درست ہے اور جس طرح قربانی کے اندر ان تمام جانوروں میں سات حصے ہوسکتے ہیں اسی طرح عقیقہ کے اندر بھی سات حصے ہوسکتے ہیں، بشرطیکہ تمام کے اندر قربت کی نیت ہو ”قد علم أن الشرط قصد القربة من الکل، وشمل ما لو کان أحدہم مریدا للأضحیة عن عامہ وأصحابہ عن الماضی الخ وشمل ما لو کانت القربة واجبة علی الکل أو البعض اتفقت جہاتہا أو لا: کأضحیة وإحصار الخ وکذا لو أراد بعضہم العقیقة عن ولد قد ولد لہ من قبل لأن ذلک جہة التقرب بالشکر علی نعمة الولد ذکرہ محمد رحمہ اللہ (رد المحتار: ۹/ ۴۷۲، ط: زکریا دیوبند) ولو ذبح بقرة أو بدنة عن سبعة أولاد أو اشترک فیہا جماعة جاز سواء أرادوا کلہم العقیقة أو أراد بعضہم العقیقة وبعضہم اللحم کما سبق فی الأضحیة (شرح المہذب/ ۸/۲۹) قلت مذہبنا فيالأشحیة بطلانہا بإرادة بعضہم اللحم قلیکن کذلک في العقیقة (إعلاء السنن: ۱۷/ ۱۱۹، ط: إدارة القرآن کراچی) فیہ حدیث عند الطبرانی وأبی الشیخ عن أنس رفعہ یعق عنہ من الإبل والبقر والغنم ونص أحمد علی اشتراط کاملة وذکر الرافعی بحثا أنہا تتأدی بالسبع کما فی الأضحیة واللہ أعلم (فتح الباري: ۹/۷۴۰) قلتگ ہو مخالف فیہ حسن الحدیث وفیہ أنہ صلی اللہ علیہ وسلم سماہ نسیکة ونسکا وہو یعم الإبل والبقر والغنم إجماعا (إعلاء السنن: ۱۷/ ۱۱۷،ط: اشرفی دیوبند) القیاس حجة من حجج الشرع یجب العمل بہ عند انعدام ما فوقہ من الدلیل في الحادثة وقد ورد في ذلک الاأخبار والآثار (أصول الشاشی/ ۲۸۱، ط: اتحاد دیوبند) مذہبنا جواز العقیقة بما تجوز بہ الأضحیة من الإبل والبقر والغنم الخ (المجموع: ۸/ ۲۶۰، ط: احیاء التراث ا لعلمی بیروت) قال مالک وہی جنسہا جنس الأضاحی الغنم والبقر والإبل (الذخیرة في فروع المالکیة: ۲/ ۴۲۷) اختلفوا أیضا فیما تجوز بہ العقیقة أئمة الثلاثة مالک والشافعي وأحمد والجمہور إلی تخصیصہا ببہیمة الأنعام کالأضحیة وہي الإبل والبقر والغنم وسواء في ذلک في الذکور والإناث (فتح الرباني: ۱۳/ ۱۲۵) مزید تفصیل کے لیے جواہر الفتاوی: ۳/۴۱۳کا مطالعہ کریں)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات