India

سوال # 159248

حضرت، میرے بڑے بھائی علاقہ کی مسجد کی انتظامی کمیٹی کے رکن ہیں۔ جب تک مسجد کی مالی حالت ٹھیک نہیں تھی وہی امام اور موٴذن کی خدمات انجام دیتے تھے۔ مگر جب مسجد الحمد للہ مالی حالت سے ٹھیک ہوگئی تو امام اور موٴذن کو منتخب کیا گیا۔ اسی لحاظ سے وقت بے وقت میرے بھائی لوگوں کو اچھے کاموں کی ترغیب دیتے رہتے ہیں جو اُن کو قرآن و حدیث کی معلومات ہوتی ہے۔
عید الاضحی کے موقع پر انہوں نے اسی طرح کی ایک بات منبر پر بطور اعلان اور لوگوں کی اصلاح کے لیے کہا جس کا مفہوم یہ ہے: ”کہ جو کوئی صاحب نصاب ہے اور قربانی کرنے کی حیثیت رکھتا ہے اسے قربانی کرنی چاہئے، اگر کسی کے گھر میں چار لوگ ہیں اور چاروں صاحب نصاب ہیں اور ان کے پاس کافی مال ہے تو چاروں کو قربانی فرداً دینی چاہئے“۔ یہ بات سنتے ہی ایک حضرت اٹھے اور ایک حدیث بیان کی جس کی کوئی دلیل پیش نہیں کی، جس کا مفہوم یہ تھا: ”ایک گھر کے لیے ایک قربانی کافی ہے“ ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ اگر کسی گھر میں چار بیٹے ہیں، چاروں صاحب نصاب ہیں اور قربانی کرنے کی حیثیت رکھتے ہیں مگر ان کے گھر کا ذمہ دار ان کے والد ہیں اور سب کی آمدنی والد صاحب کے ہاتھ میں رہتی ہے، تو اس صورت میں ایک ہی قربانی دینی چاہئے۔ موقع عید کا تھا، وہاں بحث کی کوئی گنجائش نہیں تھی، مگر عوام شاید آج بھی اس مسئلہ کا صحیح حل نہیں سمجھ پائی۔
برائے مہربانی آپ صحیح معلومات سے ہمیں آگاہ کریں۔ جزاک اللہ

Published on: Mar 14, 2018

جواب # 159248

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:674-76T/sd=6/1439



قربانی صرف گھر کے ذمہ دار پر نہیں؛ بلکہ گھر میں رہنے والے ہر صاحبِ نصاب پر الگ الگ لازم ہے ، لہذا صورت مسئولہ میں آپ کے بڑے بھائی نے جو مسئلہ بیان کیا تھا، وہی صحیح ہے ،اگرکسی کے چار بیٹے ہوں اور چاروں کماتے ہوں اور صاحب نصاب ہوں ، کاروبار میں ان کی حیثیت باپ کے معاون کی نہ ہو، تو چاروں پر الگ الگ قربانی واجب ہوگی، خواہ سب کی آمدنی والد صاحب کے ہاتھ میں رہتی ہو ۔ الأضحیة واجبة علی کل حرٍ مسلمٍ مقیمٍ موسرٍ فی یوم الأضحی عن نفسہ۔ (الہدایة ۴/۴۴۳)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات