India

سوال # 157474

(۱) حضرت مفتی صاحب! قربانی کے جانور کے چمڑے یا کھال مدرسہ کو دینا جائز ہے؟
(۲) مدرسہ والے براہ راست اس چمڑے کو لے جاکر بیچتے ہیں، اس رقم کو مدرسے کے اخراجات میں استعمال کرتے ہیں۔ اس صورت میں چمڑا مدرسے کو دینا مناسب ہے؟
(۳) چمڑا ہم باہر بیچ کر اس کے پیسے غریب رشتہ دار کو دینا بہتر ہے؟
(۴) قربانی کے گوشت کو تین حصوں میں کیسے تقسیم کرنا ہے ؟ وزن بھی کرنا ہے؟
(۵) قربانی کا بکرا کتنے سال کی عمر کا رہنا چاہئے؟
(۶) قربانی کرتے وقت پڑھنے کی دعا کیا ہے؟

Published on: Jan 15, 2018

جواب # 157474

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:383-313/D=4/1439



(۱) قربانی کے جانور کے چمڑے فروخت ہونے کے بعد قیمت غربا اور مستحقین زکاة کو مالک بناکر دینا ضروری ہے پس مدرسہ میں اگر اس طرح کا مصرف ہے اورمدرسہ والے مستحقین کو مالک بناکر دیتے ہیں تو ایسے مدرسہ میں کھال دینا جائز ہے۔



(۲) چمڑہ فروخت ہونے کے بعد اس کی رقم غربا اور مستحقین کو خواہ وہ طلبہ ہی کیوں نہ ہوں مالک بناکر دینا ضروری ہے اس رقم سے مدرسہ کی تعمیر اور مرمت کرانا یا مدرسین کی تنخواہ میں خرچ کرنا جائز نہیں۔



(۳) غریب رشتہ دار کو چمڑہ کی رقم دینا جائز ہے، جو زیادہ ضرورت مند ہو اسے مقدم رکھیں مدرسہ میں دینے سے صدقہ کے ثواب کے ساتھ تعلیم علم دین کی اشاعت کا ثواب بھی ملے گا۔ اسی طرح رشتہ دار کو دینے میں صدقہ کے ساتھ صلہ رحمی کا بھی ثواب ملے گا۔



(۴) وزن کرکے تقسیم کریں اوراگر خلاف جنس ایک ایک چیز ہر حصہ میں رکھ دیں تو پھر کمی پیشی ہونے میں حرج نہیں اندازہ سے بھی حصہ لگاسکتے ہیں خلاف جنس سے مراد یہ ہے کہ چار حصوں میں گوشت کے ساتھ ایک ایک پایہ (پیر) رکھ دیں ایک میں بھیجا رکھ دیں ایک میں کلہ زبان رکھ دیں ایک میں دل گردہ یا اور کوئی چیز جو گوشت سے مختلف ہو رکھ دیں۔ اس صورت میں تقسیم کے لیے وزن کرنا نہ ہوگا۔ جو جواب لکھا گیا وہ جانور کے سات حصوں میں گوشت تقسیم کرنے کا لکھ دیا گیا۔ تین حصوں میں تقسیم یعنی ایک اپنے گھر میں رکھنا، ایک حصہ رشتہ داروں کو دینا اورایک حصہ غربا میں یہ تقسیم اندازہ سے کرلیں کم وبیش ہوجائے تو حرج نہیں۔



(۵) بکرا پورے ایک سال کا ہونا چاہئے ایک دن بھی کم نہ ہو نیز صحیح سالم ہو کسی قسم کا عیب نہ ہو۔



(۶) جب قربانی کا جانور قبلہ رخ لٹادے تو یہ دعا پڑھے



إِنِّی وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِی فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِیفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِکِینَ، إِنَّ صَلَاتِی وَنُسُکِی وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِی لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ، لَا شَرِیکَ لَہُ وَبِذَلِکَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِینَ، اللہم منک ولک پھر بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر ذبح کرے اور ذبح کرنے کے بعد یہ دعا پڑھے۔ اللّہُمَّ تَقَبَّلْہُ مِنّي کَما تَقَبَّلْتَ مِنْ حَبِیْبِکَ مُحَمَّدٍ وَّ خَلِیْلِکَ إِبْرَاہِیْمَ عَلَیْہِمَا الصَّلٰوةُ والسَّلامُ․



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات