سوال # 155268

قربانی کے متعلق رہبری فرمائیں۔
کیا فرماتے ہیں مفتانِ اکرام مندرجہ ذیل سوالات کے متعلق ، قرآن و حدیث سے مدلل جوابات دے کر عنداللّہ ماجور ہوں ۔
سوال نمبر 1: کیا مرحومین کی طرف سے قربانی کرنا شرعی عمل ہے اور اس کی حیثیت کیا ہوسکتی ہے ؟
سوال نمبر 2: رسول اللہ صل اللہ علیہ و سلم کے نام سے قربانی کرنے کا عمل کیسا ہے ؟
سوال نمبر 3: کیا ابراہیم علیہ السلام ، اسماعیل علیہ السلام اور کسی بھی نبی رسول جو چاہیں کے نام سے قربانی کرنا کیا شرعی عمل ہے ؟
سوال نمبر 4: قربانی کا جانور خرید کرنے کے بعد کسی مدرسہ میں یا کسی تنظیم کو پورے اختیارات کے ساتھ استعمال کرنے کے لئے دیا جاسکتا ہے .؟
سوال نمبر 5: کیا مدارس یا تنظیم اس جانور کو ذبح کرکے اس جانور کے گوشت سے بریانی اور کباب وغیرہ بناکر/ پکواکر دولت مند حضرات کو اور ان لوگوں کو جو مدرسہ/تنظیم کو مسلسل چندہ دیا کرتے ہیں ان کو کھلانے کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟
سوال نمبر 6: دولت مند عوام کا اسے کھانا کس حد تک جائز ہے ؟
سوال نمبر 7: کیا قربانی کی الگ الگ قسمیں ہیں ..؟؟ مثلاً ؛ قربانی فرض ، قربانی واجبہ ، قربانی نافلہ ۔ اگر یہ ہے تو کس مقصد کے لئے کرنے کا شرعی حکم ہے ؟ وضاحت فرمائیں ۔ خیر

Published on: Oct 15, 2017

جواب # 155268

بسم الله الرحمن الرحيم


62-7/L=1/1439Fatwa:



میت کی طرف سے مستقلاً قربانی کرنا جائز ہے، اور اس کی حیثیت نفل کی ہوگی،امام ابوداوٴد رحمہ اللہ نے ”باب الأضحیة عن المیت“ ”میت کی طرف سے قربانی کرنا“ کا باب باندھ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا عمل ذکر کیا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قربانی کیا کرتے تھے، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَةَ حَدَّثَنَا شَرِیکٌ عَنْ أَبِی الْحَسْنَاء ِ عَنْ الْحَکَمِ عَنْ حَنَشٍ قَالَ رَأَیْتُ عَلِیًّا یُضَحِّی بِکَبْشَیْنِ فَقُلْتُ لَہُ مَا ہَذَا فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَوْصَانِی أَنْ أُضَحِّیَ عَنْہُ فَأَنَا أُضَحِّی عَنْہُ․ (ابوداوٴد: ۲۷۹۰، باب الأضحیة عن المیت) نیز اس کی تائید حضرت عائشہ، حضرت ابوہریرہ، حضرت جابر اور حضرت ابورافع رضی اللہ عنہم سے مروی ان روایات سے ہوئی ہے جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی امت کی طرف سے قربانی کرنا مذکور ہے، امت میں ظاہر ہے کہ وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اس سے قبل وفات پاچکے ہوں، اعلاء السنن میں باب التضحیة عن المیت کا باب باندھ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ والی روایت لکھنے کے بعد لکھتے ہیں: أقول: الحدیث نص في الباب وقد ذکر في مقامٍ آخر من ہذا الکتاب ما یعضدہ من حدیث عائشة وأبی ہریرة وجابر وأبي رافع وہو أن النبي صلی اللہ علیہ وسلم کان یضحي عن أمتہ (إعلاء السنن: ۱۷/۲۷۲) نیز قربانی ایک مالی عبادت ہے او راہل سنت والجماعت کے نزدیک مالی عبادت بالاتفاق دوسرے شخص کی طرف سے کی جاسکتی ہے۔ اس میں زندے اور مردے دونوں برابر ہیں : وفي البحر من صام أو صلی أو تصدق وجعل ثوابہ لغیرہ من الأموات والأحیاء جاز ویصِل ثوابہا إلیہم عند أہل السنة والجماعة کذا في البدائع․ (شامي: ۳/۱۵۲) وفي إعلاء السنن: وفي ”رد المحتار“ عن ”البدائع“ لأن الموت لا یمنع التقرب عن المیت بدلیل أنہ یجوز أن یتصدق عنہ ویحج عنہ، وقد صح أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ضحی بکبشین أحدہما عن نفسہ والآخر عمن لم یذبح عن أمتہ وإن کان منہم من قد مات قبل أن یذبح (إعلاء السنن: ۱۷/۲۷۳)اپنے مرحوم اعزا یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قربانی کا سلسلہ امت میں جاری وساری ہے۔ وحج ابن الموفق وہو في طبقة الجنید عنہ سبعین حجة، وختم ابن السراج عنہ صلی اللہ علیہ وسلم أکثر من عشرة آلاف ختمہ وضحی عنہ مثل ذلک․ (شامي: ۳/۱۵۳)۔(۲،۳)آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ودیگر انبیاء کے نام سے قربانی کا جائز بلکہ یہ سعادت کے حصول کا ذریعہ ہے ۔”عن حنش ۔رحمہ اللہ۔ قال :رایت علیا رضی اللہ عنہ یضحی بکبشین ،فقلت لہ ماہذا ؟فقال ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اوصانی ان اضحی عنہ،فانا اضحی عنہ(مشکوة:۱۲۸)وفی الشامی:ختم ابن الراج عنہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر من عشرة آلاف ختمة،وضحی عنہ مثل ذالک ،وقول علمائنا لہ ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ یدخل فیہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم فانہ احق بذالک․ (شامی:۳/۱۵۳ط:زکریا دیوبند)۔(۴،۵،۶) اگر قربانی کرنے والا خود مدرسے یا تنظیم کو قربانی کے جانور کو ذبح کرنے اور اس کے گوشت کو اپنی مرضی سے تقسیم کرنے(خود کھانے اور دوسروں کو کھلانے) کا وکیل بنادے تو اہلِ مدارس کے لیے خود اس کا گوشت کھانے دوسروں کو کھلانے (خواہ وہ امیر ہو یا کوئی اور) کی اجازت ہوگی۔اغنیاء کو بھی کھانے کی گنجائش ہوگی بشرطے کہ نذر کی قربانی نہ ہو۔ (۷)قربانی دوطرح سے کی جاتی ہے ایک توواجب قربانی جیسے :عید اور نذروغیرہ کی قربانی اوردوسری نفل قربانی جیسے: مالدار کا ایک جانور سے زائد قربانی کرانا یا مرحومیں وغیرہ کے ایصالِ ثواب کے لیے قربانی کرانا وغیرہ ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات