INDIA

سوال # 154322

میرے دو بیٹے ہیں ایک تین سال اور نو مہینہ کا اور دوسرا ایک سال اور دو مہینہ کا۔ میں نے ابھی تک ان کا عقیقہ نہیں کیا ہے، اب میں عقیقہ کرنا چاہتا ہوں، کیا میں اس میں اپنے رشتہ دار اور دوستوں کو بھی بلا سکتا ہوں؟ کیا وہ بھی عقیقہ کے بکرے کا گوشت کھا سکتے ہیں؟ مہربانی کرکے مجھے پورا طریقہ تفصیل سے بتائیں۔ میں یہ عقیقہ دکھاوے کے لیے نہیں بلکہ اس طرح کرنا چاہتا ہوں کہ یہ اللہ کے نزدیک قابل قبول ہو۔
مہربانی کرکے مجھے اس سے جڑی ساری باتیں بتائیں مثلاً کتنے بکرے، کتنی عمر کے اور کس کس کو کھلایا جاسکتا ہے؟ وغیرہ غیرہ۔ افضل طریقہ کیا ہے؟
مہربانی کرکے ہر چھوٹی و بڑی باتیں جس سے میں یہ سنت بہتر طریقہ سے ادا کر سکوں، بتائیں۔ شکریہ

Published on: Sep 21, 2017

جواب # 154322

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 1228-194/D=12/1438



بچوں کا عقیقہ ساتویں دن کرنا مستحب ہے نہیں کرسکے تو اب جب گنجائش اور سہولت ہو کر سکتے ہیں ہر لڑکے کی طرف سے دو بکرے عقیقہ کے لیے ذبح کرنا مستحب ہے وسعت نہ ہو تو ایک بھی کرسکتے ہیں، بکرا ویسا ہی ہونا چاہئے جیسا کہ قربانی کے لیے ہوتا ہے یعنی پورے ایک سال کا ہو اور کسی قسم کا عیب اور نقص اس میں نہ ہو مثلاً دُم کٹا کان کٹا ہونا ٹانگ ٹوٹی ہو جس سے چل نہ کسے پوپلا یعنی دانٹ توٹے ہوں اگر چارہ نہ کھا سکے تو یہ سب عیب اور نقص کی باتیں ہیں یہ نہیں ہونا چاہئے۔



بڑے جانور میں حصہ لینے سے بھی عقیقہ ادا ہو جاتا ہے ایک بیٹے کی طرف سے دو حصے لے لیں اور اگر وسعت نہ ہو تو ایک حصہ بھی لے سکتے ہیں عقیقہ کے گوشت کے سلسلے میں مستحب ہے کہ ایک تہائی گوشت غریبوں کو صدقہ کردیا جائے اور ایک تہائی اقرباء کو بانٹ دیا جائے اور ایک تہائی گھر میں رکھ لیں یہ مستحب ہے کم و بیش بھی کر سکتے ہیں اور ضرورت ہو تو سارا گوشت گھر میں پکا سکتے ہیں اور رشتے داروں کو کچا بھی دے سکتے ہیں پکا کر دعوت بھی کرسکتے ہیں سب جائز ہے۔



بہتر ہے کہ جس دن بچہ پیدا ہوا ہے اس کے اعتبار سے ساتویں دن عقیقہ کریں یعنی جب بھی کریں پیدائش والے دن سے ایک دن پہلے کریں مثلا بدھ کو پیدا ہوا ہو تو منگل کو عقیقہ کریں یہ مستحب ہے کیونکہ یہی ساتواں دن ہوگا۔ اگر کسی وجہ سے اس کا لحاظ نہ کرسکیں مثلا بقرعید کے دنوں میں عقیقہ کرنے سے ساتواں دن نہیں پڑ رہا ہے تو کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ ضروری بات نہیں ہے مستحب درجہ کی چیز ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات