India

سوال # 154044

کسی پرندے کو ذبح کرتے وقت میں نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی کہ ذبح صحیح طریقہ پر ہو لیکن روح نکلنے کے بعد پر چھلتے وقت دیکھا تو اس کی سانس کی نلی یا کھانے کی نلی نہیں کٹی تھی ،اب اس کے گوشت کے بارے میں کیا حکم ہے ؟

Published on: Sep 23, 2017

جواب # 154044

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 1324-1262/sn=1/1439



ذبیحہ کے حلال ہونے کے لیے حلقوم (نرخرہ) مری (وہ رگ جس سے دانہ پانی جاتا ہے) اور ودجین (دو شہ رگیں) ان چار رگوں میں سے اکثر یعنی کم ازکم تین کا کٹنا ضروری ہے ورنہ ذبیحہ حلال نہ ہوگا؛ لہٰذا صورت مسئولہ میں اگر کھال نکالتے وقت یہ معلوم ہو کہ ان چار رگوں میں سے تین بھی نہیں کٹی ہیں تو یہ پرندہ شرعاً حلال نہ ہوگا؛ لہٰذا اس کا گوشت کھانا بھی جائز نہ ہوگا۔ والعروق التي تقطع في الذکاة أربعة؛ الحلقوم، والمري والودجان ․․․ وعندنا إن قطعہا حلّ الأکل وإن قطع أکثرہا فکذلک عند أبي حنیفة إلخ (ہدایہ: ۴/ ۴۳۷، ط: اشرفی دیوبند)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات