India

سوال # 147075

میرے دو بچے ہیں، ان کی عمر ۲۴ اور ۲۱ سال ہے، میں نے ان کے بچپن میں ہی عقیقہ کرنے کا ارادہ کیا تھا، لیکن کچھ مسائل کی وجہ سے میں ان کا عقیقہ نہیں کرسکا تھا، اب ایک بنگلور میں ملازمت کررہاہے اور دوسرا میرے ساتھ رہ کر جام نگر میں پڑھائی کررہاہے، کیا میں بڑے بچے کے لیے مدرسہ میں عقیقہ کی رقم دے سکتاہوں؟اور چھوٹے کے لیے میں جام نگر میں سوسائٹی کے ساتھ عقیقہ کرنا چاہتاہوں۔ براہ کرم، رہنمائی فرمائیں۔

Published on: Jan 8, 2017

جواب # 147075

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 382-362/M=4/1438



 



عقیقہ میں جانور ذبح کرنا ہوتا ہے، مدرسہ میں صرف عقیقہ کی رقم دیدینے سے عقیقہ ادا نہیں ہوگا ، ہاں رقم دے کر مدرسہ والے سے کہہ دیں کہ وہ اس رقم سے جانور خریدکر میرے بچے کے نام پر عقیقہ کردیں اور مدرسہ والے اس رقم سے جانور خریدکر ذبح کردیں تو اس طرح عقیقہ ہوجائے گا، اور سوسائٹی کے ساتھ عقیقہ کرنے کی کیا صورت مراد ہے؟ اگر مطلب یہ ہے کہ جہاں آپ رہ رہے ہیں وہیں چھوٹے بچے کا عقیقہ کرنا چاہتے ہیں تو ایسا کرسکتے ہیں، عقیقہ کے احکام قربانی کے طرح ہیں اس لیے عقیقہ میں بھی قربانی کے احکام کی رعایت رکھنی چاہیے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات