India

سوال # 147022

میرے کچھ رشتہ داروں کے گھروں میں خواتین چکن کو ذبح کرتی ہیں اگر مرد اس وقت موجود نہ ہوں اور کبھی کبھار مرد موجودبھی ہوتے ہیں۔ جانور /چکن کی حالت اس وقت بالکل صحیح ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ۳۵/۴۰ چالیس کی عمر دراز خواتین ذبح کرسکتی ہیں،یہ حرام نہیں ہے۔ میں یہ جاننا چاہتاہوں کہ کیا صرف اس وجہ سے کہ مرد گھر میں موجود نہیں ہے اس لیے اس وقت عورت کے لیے ذبح کرنا جائز ہے؟یا عورت کی عمر چالیس سال ہو تب وہ ذبح کرسکتی ہے جب کہ جانور /چکن نہیں مررہاہو؟ براہ کرم، صحیح طریقے رہنمائی فرمائیں۔

Published on: Jan 4, 2017

جواب # 147022

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 246-217/N=4/1438



 



جانور ذبح کرنے والے کا مرد ہونا یا عورت کی صورت میں اس کا کم از کم چالیس سال کا ہونا از روئے شرع شرط نہیں ہے، اگر کوئی مسلمان عورت شرعی طریقہ پر جانور ذبح کرنا جانتی ہے اور وہ شرعی طریقہ پر جانور ذبح کرتی ہے تو اگرچہ اس کی عمر چالیس سال سے کم ہو یا وہاں کوئی مرد ذبح کرنے والا موجود ہو یا جانور قریب المرگ نہ ہو تب بھی عورت کا ذبیحہ حلال وجائز ہوگا اور اس میں از روئے شرع کوئی کراہت نہیں ہے۔ ولو الذابح مجنوناً أو امرأة أو صبیاً یعقل التسمیة والذبح ویقدر(الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الذبائح، ۹: ۴۳۰، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات