pakistan

سوال # 146289

میں نے جہاں پر قربانی کا حصہ لیا تھا وہاں پر مختلف لوگ شامل تھے، بعض لوگوں نے پیسے پہلے ہی جمع کروا دیے تھے، اور جس شخص کے ذمہ قربانی کا جانور لانے کی ذمہ داری تھی وہ جانور لے آیا، اور ایک شخص نے پیسہ جمع نہیں کروائے تھے اس کے پیسہ بھی قربانی کا جانور لانے والے نے خود ہی جمع کر دیئے، اب پتا یہ کرنا ہے کہ جس شخص نے پیسہ جمع نہیں کروائے تھے جس کی وجہ سے کافی عرصہ تک قربانی کے خرچہ کا پتا دوسرے قربانی کرنے والوں کو پتا نہیں چل سکا، اور اُن کا بقایا بھی بنتا ہے، او رصرف ایک شخص کے پیسہ جمع نہ کروانے کی وجہ سے دوسروں کے دلوں میں کچھ شک و شبہ ہوتا ہے، تو ایسی صورت میں کیا کیا جائے، اور قربانی ہونے یا نہ ہونے کی صورت بنتی ہے، جب کہ پیسہ نہ دینے والا شخص صاحب حیثیت ہے۔

Published on: Nov 28, 2016

جواب # 146289

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 176-147/B=2/1438



کوئی شک و شبہ نہ کریں، قربانی اس کی بھی ہوگئی۔ بعد میں ذمہ دار کو دیدے گا تو کافی ہے البتہ ذمہ دار کو چاہئے کہ سب شرکاء کو پہلے ہی متعین کرکے ہر شریک سے پیسے وصول کرکے جانور خریدے یہ بہتر ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات