India

سوال # 146187

جانور کو ذبح خانہ میں ذبح کرنے سے پہلے کرنٹ کا شوک لگایا جاتا ہے جس سے وہ ادھ مرہ ہو جاتا ہے پھر اس کو ذبح کر دیا جاتا ہے کیا ایسا کرنا درست ہے اور کیا اس طرح ذبح کرنے کی کمائی جائز ہے یا نہیں ؟

Published on: Nov 28, 2016

جواب # 146187

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 118-104/N=2/1438



(۱، ۲): ذبح سے پہلے جانور کو کرنٹ لگاکر بیہوش کرنا یا ٹھنڈا ہونے سے پہلے اس کی کھال نکالنا، جانور کو کسی واقعی ضرورت کے بغیر محض اپنی آسانی وسہولت کے لیے اذیت وتکلیف پہنچانا ہے، جو شریعت میں ناجائز و مکروہ تحریمی ہے ؛ اس لیے یہ طریقہٴ ذبح شرعاً ناجائز ہے ؛ بلکہ اگر خدانخواستہ جانور کرنٹ کی شدت کو برداشت نہ کرکے ذبح ہونے سے پہلے ہی مرگیا تو وہ حرام ومردار ہوجائے گا، اس کا کھانا جائز نہ ہوگا؛ البتہ اس طرح ذبح کرنے کی کمائی پر حرام ہونے کا حکم نہیں لگے گا اگرچہ خوب پاکیزہ بھی نہیں کہی جاسکتی (فتاوی محمودیہ۱۷: ۲۶۰، ۲۶۱، سوال:۸۳۴۹، مطبوعہ: ادارہٴ صدیق ڈابھیل)۔ وکرہ کل تعذیب بلا فائدة مثل قطع الرأس والسلخ قبل أن تبرد ، أي: تسکن عن الاضطراب وھو تفسیر باللازم کما لا یخفی (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الذبائح، ۹: ۴۲۷، ط: مکتبة زکریا دیوبند)،وکرہ النخع ……وکل ذلک مکروہ ؛ لأنہ تعذیب الحیوان بلا ضرورة ، والحاصل أن کل ما فیہ زیادة ألم لا یحتاج إلیہ فی الذکاة مکروہ کذا فی الکافي (الفتاوی الھندیة ۵: ۲۸۸، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، ذبح شاة مریضة فتحرکت أو خرج الدم حلت وإلا لا إن لم تدر حیاتہ عند الذبح وإن علم حیاتہ حلت مطلقاً وإن لم تتحرک ولم یخرج الدم کذا فی الدر (الدر المختار مع رد المحتار، ۹: ۴۴۷)، قولہ:”فتحرکت“:أي: بغیر نحو مد رجل وفتح عین مما لا یدل علی الحیاة کما یأتي، قولہ:”أو خرج الدم “:أي: کما یخرج من الحي، قال فی البزازیة: وفي شرح الطحاوي: خروج الدم لا یدل علی الحیاة إلا إذا کان یخرج من الحي عند الإمام وھو ظاہر الروایة (رد المحتار)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات