معاملات - حدود و قصاص

India

سوال # 57048

میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں ایک دعوت میں گیاتھا تو اس دعوت میں دو لوگ آپس میں ایک مسئلہ کو لے کر بحث کررہے تھے۔مسئلہ یہ تھا کہ ایک صاحب فرمارہے تھے کہ قرآن میں اس بات کا ذکر ہے کہ اللہ کے نبی نے کچھ بیمار لوگوں کواونٹ کا پیشاب پینے کو کہا تھا جس کے پینے سے وہ بیمار لوگ صحتمند ہوگئے تھے اور صحتمند ہونے کے بعد وہ لوگ اونٹ کا قتل کرکے ان کے اونٹ لے کر بھاگ گئے ۔ جب اللہ کے نبی کو اس واردات کے بارے میں پتا چلا تو آپ نے ان لوگوں کو حراست میں لینے کا حکم دیا، وہ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کو بھی قتل کردیا جائے۔
تو دوسرے صاحب نے فرمایا اس بات کا ذکر قرآن میں نہیں بلکہ ایک حدیث میں ہے اور ذکر یہ ہے کہ اللہ کے نبی نے پیشاب پینے کو نہیں بلکہ ان بیمار لوگوں کے پیٹ پہ لگانے کو کہاتھا ، کیوں کہ ان بیمار لوگوں کو پیٹ میں گیس کی شکایت ہورہی تھی اور قتل کرنے کا حکم اس لیے دیا تھا کیوں کہ سعودی میں چوری کی سزا ہاتھ کاٹنے اور قتل کے بدلے قتل کی سزا۔ تو میں آپ سے یہ جاننا چاہتاہوں کہ آپ بتائیں کہ اصل بات کیا ہے اور اس بات کا ذکر کس میں گیا ہے؟

Published on: Jan 10, 2015

جواب # 57048

بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa ID: 270-270/M=3/1436-U

یہ واقعہ حدیث میں اس طرح مذکور ہے: قبیلہ عرینہ وغیرہ کے کچھ لوگ مدینہ آئے اور حلقہ بگوشِ اسلام ہوئے، مدینہ کی آب وہوا ان کو موافق نہ آئی، جویٰ (جویٰ پیٹ کی ایک بیماری ہے جس سے بدہضمی ہوجات ہے، بدن پیلا پڑجاتا ہے) بیماری نے ان کو پکڑلیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو زکاة کے اونٹوں میں بھیج دیا اور ان کو اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پینے کا حکم دیا، وہ چیزیں پی کر تندرست ہوگئے، پھر ان کی نیت بگڑگئی اورانھوں نے اونٹوں کے چرواہے کو قتل کردیا، دوسرا چرواہا اس درمیان بھاگ کھڑا ہوا، اس نے مدینہ پہنچ کر صورت حال بتائی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے ایک دستہ روانہ کیا جو ان کو اونٹوں کے ساتھ گرفتار کرلایا، ان کا ایک ہاتھ اور ایک پاوٴں مخالف جانب سے کاٹ دیا گیا اور لوہے کی سلائی گرم کرکے ان کے آنکھوں میں پھیردی گئی اوران کو حَرَّہ نامی میدان میں ڈال دیا گیا،وہاں وہ شدتِ پیاس سے زمین کاٹتے تھے، آہستہ آہستہ جسم سے خون نکل گیا اور وہ اپنے کیفر دار کو پہنچے۔
عن أنس، أن ناسا من عرینة قدموا المدینة، فاجتووہا، فبعثہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم في إبل الصدقة، وقال: ”اشربوا من ألبانہا وأبوالہا“ ، فقتلوا راعي رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، واستاقوا الإبل، وارتدوا عن الإسلام، فأتي بہم النبي صلی اللہ علیہ وسلم، فقطع أیدیہم وأرجلہم من خلاف، وسمر أعینہم، وألقاہم بالحرة "، قال أنس: فکنت أری أحدہم یکد الأرض بفیہ، حتی ماتوا (جامع الترمذي: ۱/ ۱۰۶، رقم ۷۲، باب ما جاء في بول ما یوٴکل رحمہ، ط: مصطفی الباني الحلبي مصر، ۱۳۹۵ ہج)

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات