معاملات - حدود و قصاص

Pakistan

سوال # 48634

(۱) کیا قتل عمد کو فقہاء نے فساد فی الارض قرار دیا ہے اور اس کی سزا حرابہ کی حد بتائی ہے۔
(۲) کیادیت صرف قتل خطا میں لینا جائز ہے اور قتل عمد میں دیت نہیں ہوتی۔

Published on: Oct 31, 2013

جواب # 48634

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 1425-1422/N=12/1434-U

(۱) قتل عمد بلاشبہ فساد فی الارض کے قبیل سے ہے اور اس میں بطور سزا قصاص واجب ہوتا ہے، ہاں البتہ اگر مقتول کے اولیا صلح کرلیں اور قصاص کے بجائے مالی معاوضہ پر راضی ہوجائیں تو قصاص ساقط ہوجائے گا۔
(۲) قتل عمد میں اصل واجب قصاص ہے البتہ باہمی رضامندی کی صورت میں مال پر مصالحت بھی جائز ہے، در مختار (مع الرد ۱۰/ ۱۵۸) میں ہے: ”وموجبہ القود عینا فلا یصیر مالا إلا بالتراضي فیصح صلحا ولو بمثل الدیة أوأکثر ابن کمال عن الحقائق اھ“۔ البتہ قتل عمد کے علاوہ قتل کی دیگر جو اقسام ہیں یعنی: شبہ عمد، قتل خطا، قتل جاری مجری خطا اور قتل بالسبب ان سب میں دیت اصل واجب کے طور پر واجب ہوتی ہے، کذا فی عامة کتب الفقہ۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات