معاملات - حدود و قصاص

India

سوال # 156841

اگر زنا سرزد ہوجائے تو اس کی کیا معافی ہے ؟ کیا زنا کا کوئی کفارہ ہے ؟ اور روزے کی حالت میں اگر ہمبستری ہوجائے اور دونوں فارغ نہ ہوئے ہوں تو اس کا کفارہ کیا ہے ؟ زنا توبہ کرنے سے معاف ہوجاتا ہے ؟

Published on: Dec 14, 2017

جواب # 156841

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:297-242/N=3/1439



(۱، ۳): اگر کسی سے زنا سرزد ہوجائے تو اللہ تعالی سے سچی پکی توبہ کرے اور آئندہ زنا اور اس کے اسباب سے بچنے اور دور رہنے کی بھر پور کوشش کرے۔اگر آدمی سچی توبہ کرے گا تو اللہ تعالی ضرور اس کی توبہ قبول فرمائیں گے اور اسے گناہ سے پاک وصاف فرمادیں گے۔



قال اللہ تعالی: قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰی اَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَحْمَةِ اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا اِنَّہُ ہُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ (سورة الزمر، رقم الآیة:۵۳)، وقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: التائب من الذنب کمن لاذنب لہ رواہ ابن ماجہ والبیہقی في شعب الإیمان (مشکاة المصابیح،کتاب الدعوات، باب الاستغفار والتوبة، الفصل الثالث،ص: ۲۰۶، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)، والحدیث حسنہ الحافظ ابن حجر العسقلانيلشواہدہ کما نقلہ عنہ السخاوی في المقاصد الحسنة لہ۔



(۲):اگر رمضان کا روزہ ہے اور روزے کی حالت میں ہم بستری(صحبت) جان بوجھ کر (روزہ یاد ہونے کی حالت میں) ہوئی تو اگرچہ دونوں کو انزال نہ ہوا ہو تب بھی دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا اور دونوں پر قضا کے ساتھ کفارہ بھی لازم ہے؛ کیوں کہ جماع کے لیے مرد کی سپاری کا عورت کی شرمگاہ میں چھپ جانا کافی ہے، انزال (ڈسچارج) ہونا ضروری نہیں، وہ آخری اور اعلی درجہ ہے۔ اور اگر رمضان کے علاوہ کوئی اور روزہ تھا، جیسے:قضا روزہ یا کوئی نفل روزہ تو روزہ کی حالت میں ہم بستری کی وجہ سے صرف قضا واجب ہوگی، کفارہ نہیں۔



وإن جامع المکلف آدمیاً مشتھی في رمضان أداء لما مر…… أو جومع أو توارت الحشفة في أحد السبیلین أنزل أو لا، …عمداً …قضی،…،وکفر …ککفارة المظاہر (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ ۳: ۳۸۵-۳۹۰، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، قولہ: ”لما مر“:أي من أن الکفارة إنما وجبت لھتک حرمة شھر رمضان فلا تجب بإفساد قضائہ ولا بإفساد صوم غیرہ (رد المحتار) ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات