معاملات - حدود و قصاص

india

سوال # 146994

غیر مقلدین فقہ حنفی کے اس مسئلے پہ اعتراض کرتے ہیں اور الزام لگاتے ہیں کہ یہ مسئلہ حدیث کے خلاف ہے ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو شخص اپنا دین بدل دے اسکو قتل کردو،(بخاری:کتاب الجھاد والسیر،باب لایعذب بعذاب اللہ،حدیث#3017]فقہ حنفی(ولاتقتل المرتدة بل تحبس حتی تسلم)اگر عورت مرتد ہوجائے تو قتل نہیں قید کیاجائے گا (کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنااحناف کانصب العین ہے ) حتی کہ اسلام لے آئے[ فتاوی عالمگیری:ج2 ص277،سطر16،کتاب السیر،باب احکام المرتدین)۔برائے مہربانی اسکا مدلل جواب دیں۔

Published on: Jan 4, 2017

جواب # 146994

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 270-48/D=4/1438



 



دار الاسلام میں اگر کوئی عورت مرتد ہوجائے تو اس کو قید کرکے اسلام پر مجبور کیا جائے گا، قتل نہیں کیا جائے گا الا یہ کہ امام اس کو قتل کرنے میں مصلحت سمجھے قال فيالدر: والمرتدة․․․ تحبس أبدًا ․․․ حتی تسلم ولا تقتل (الدر المختار مع ردالمحتار ۶/ ۳۹۹ط زکریا) لو أمرالإمام بقتل بعض من نساء أہل الحرب مرتدة کانت أو غیرہا لمصلحة فلا بأس بہ (تفسیر مظہری ۶/ ۳۲۹ط رشیدیہ) اور یہ بات حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین سے ثابت ہے چنانچہ (۱) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: وجدت امرأة مقتولة في بعض مغازي رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فنہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن قتل النساء والصبیان (بخاری رقم ۳۰۱۵) اس حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے اگرچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ایک خاص موقع کا ہے؛ لیکن العبرة لعموم اللفظ لا لخصوص المورد کے قاعدہ کی رو سے یہ مرتدہ کو بھی شامل ہے۔ (۲) حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجتے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی نصیحتیں کی تھیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ أیما امرأة ارتدت عن الإسلام فادعہا فإن تابت فاقبل منہا وإن أبت استتبہا (معجم کبیر للطبرانی: ۲۰/ ۵۳ط قاہرہ) اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل کا حکم نہیں فرمایا؛ بلکہ اس سے توبہ کے مطالبہ کا حکم فرمایا (۳) حضرت ابن عباس نے فرمایا المرتدة عن الاسلام تحبس ولا تقتل (دار قطنی ۴/ ۱۲۷ط: رسالة) مذکورہ احادیث وآثار کے علاوہ اور بھی بہت سی احادیث وآثار ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مرتدہ کا حکم حبس ہے نہ کہ قتل، انہی احادیث وآثار کی بنیاد پر حنفیہ نے مرتدہ کو قید کرکے توبہ پر مجبور کرنے کا حکم دیا ہے اور قتل کا حکم نہیں دیا ہے جیسا کہ درمختار کے حوالہ سے گذرچکا، رہی استفتاء میں مذکور حدیث تو وہ مردوں کے ساتھ خاص ہے اور خصوصیت کی دلیل مذکورہ احادیث وآثار ہیں نیز جن احادیث و آثار میں مرتدہ کے قتل کا حکم آیا ہے یا تو وہ ضعیف ہیں یا مصلحت پر مبنی ہیں جس کے ہم بھی قائل ہیں جیسا کہ تفسیر مظہری کے حوالہ سے گذرچکا ہے۔ تفصیل کے لیے مطالعہ فرمائیں نصب الرایہ ۳/ ۴۵۶تا ۴۵۹، فتح القدیر ۶/ ۷۲تا ۷۶، تفسیر مظہری ۶/ ۳۲۶تا ۳۲۸، نیز مطالعہ فرمائیں فتاوی عالمگیری پر اعتراضات کے جوابات۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات