معاملات - حدود و قصاص

india

سوال # 146854

غیر مقلدین فقہ حنفی کے اس مسئلے پہ اعتراض کرتے ہیں اور الزام لگاتے ہیں کہ یہ مسئلہ حدیث کے خلاف ہے ۔حدیث مبارکہ:نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! مسلمان کا خون حلال نہیں (مسلمان کو قتل کرنا جائز نہیں)مگر3وجہ سے شادی شدہ زنا کرے ،قتل کے بدلے قتل،مرتد کو:(بخاری:6878)(المائدة:45)فقہ حنفی---->(من غرق صبا او بالغا فی البحرفلا قصاص عند ابی حنیفہ)جس کسی شخص نے کسی بچے یا بالغ کو سمندر میں غرق کر دیا تو امام صاحب کے نزدیک اس سے قصاص نہیں لیا جائیگا:(ھدایة:ج4ص561\سطر7)۔برائے مہربانی اس کا مدلل جواب دیں۔

Published on: Jan 30, 2017

جواب # 146854

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 282-354/B=4/1438



 



امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک سمندر میں غرق کرکے ماردینا قتل شبہ عمد ہے،اور قتل شبہ عمد میں قصاص نہیں ہے۔ امام صاحب کی دلیل حدیث ہے عن أبي بکرة (رض) قال قال النبي صلی اللہ علیہ وسلم: لا قود إلا بالسیف رواہ ابن ماجہ۔ دوسری حدیث ہے: ألا أن قتیل خطأ العمد قتیل السود والعصا․ صاحب اعلاء السنن لکھتے ہیں: إذا تحقق ثبوت الحدیث فنقول: معنی الحدیث أن القصاص لا یجب إلا إذا قتل بالحدیدة أو ما في معناہ، وأما إذا کان قتل بالعصا الکبیر ونحوہ فلا کما یدل علیہ روایة جابر إعلاء السنن: ۱۸/ ۸۴، ط: اشرفیہ دیوبند۔ من غرق صبیا إلخ، یہ حدیث موقوف ہے اور حدیث مرفوع کے ہوتے ہوئے حدیث موقوف سے استدلال درست نہیں۔ یا یہ حدیث تعزیر پر محمول ہے قال صاحب التنقیح: في ہذا الإسناد من یجہل حالہ، وقال الأنزاری: الحدیث غیر موصوف إلی النبي صلی اللہ علیہ وسلم ولئن صح فہو محمول علی السیاسة بإضافة التفریق إلی النبي صلی اللہ علیہ وسلم․ البنایة: ۱۳/ ۹۸، ط: اشرفیہ دیوبند، قلت قد ذکرنا أن البیہقي رواہ مرفوعا ولکنہ ضعیف لا تقوم بہ الحجة․ البنایة: ۱۳/ ۹۹․



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات