متفرقات - دیگر

India

سوال # 172581

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں ہمارے یہاں پر امام صاحب کو رمضان میں ہدیہ دیا جاتا ھے بغیر شرط کے ، چاہے امام صاحب کلام پاک سنائے یا نہ سنائے قرآن اور سننے اور سنانے سے الگ بھی امام کو ہی دیتے ہیں ہیں۔ اب میرا سوال یہ ہے کہ ایک صاحب جو جماعت سے تعلق رکھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ امام صاحب کو اس طرح دینا جائز نہیں ہے یہاں پر مسجد کا خرچ چندہ کرکے ہوتا ہے اسی طریقے سے امام صاحب کے لیے بھی ہم لوگ سو روپے ادمی یا دو سو روپے فی آدمی یا حسب حیثیت پیسے لے کر اس کو اکھٹا کرکے امام صاحب کو بطور ہدیہ کہہ دیتے ہیں ہیں کیا یہ دینا جائز ہے ۔ برائے کرم ہم شریعت کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں۔

Published on: Aug 8, 2019

جواب # 172581

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1148-1027/M=12/1440



امام کو رمضان میں ہدیہ دینے سے مراد اگر حافظ صاحب کو تراویح میں ختم قرآن کے موقع پر دینا مراد ہے تو یہ درست نہیں کیوں کہ تراویح میں قرآن سنانے کی اجرت کا لین دین جائز نہیں، اور اس مقصد کے لئے چندہ بھی درست نہیں، اور تراویح پڑھانے والا خواہ مستقل امام ہو یا عارضی امام، دونوں کے لئے حکم یکساں ہے کہ تراویح میں قرآن سنانے کی اجرت جائز نہیں چاہے ہدیہ نذرانہ کے نام سے ہو، لین دین معروف ہونے کی صورت میں وہ بحکم اجرت ہے، اور اگر امام صاحب کو رمضان میں ہدیہ دینے کی یہ صورت مراد نہیں بلکہ ان کی خدمات و اخراجات کا خیال کرکے سالانہ ان کی امداد کی جاتی ہے اور اِس کا قرآن سنانے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، چاہے تراویح میں قرآن سنائیں یا نہ سنائیں، بہرصورت ان کی امداد کی جاتی ہے تو شرعاً اس میں حرج نہیں، لیکن بہتر یہ ہے کہ ختم قرآن کے موقع پر یہ ہدیہ نہ دیا جائے کیونکہ اُس وقت دینے میں معاوضہ علی التراویح کا شبہ ہوتا ہے، بلکہ عید کے موقع پر یا رمضان کے شروع میں یا کسی دوسرے موقع پر دیا جاسکتاہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات