• متفرقات >> دیگر

    سوال نمبر: 170129

    عنوان: حرام مال سے ہونے والے نفع کا حکم

    سوال: میرے پاس پانچ لاکھ روپے ہیں جو کہ حرام ہے میں نے ان پیسوں سے کاروبار کیا جس سے میں نے دس لاکھ روپے کمائیں، کیا میرے لیے یہ دس لاکھ حلال اور جائز ہے ؟ اب میرے پاس جو پانچ لاکھ روپے ہے حرام اگر میں انہیں غریبوں میں بانٹ دوں تو کیا میں اس گرپ سے بچ سکتا ہوں ؟ اب اس کا کفارہ کیسے ممکن ہے کیا میں صرف وہ پانچ لاکھ جو حرام تھے انہیں غریبوں میں بانٹ دوں یا ٹوٹل 15 لاکھ غریبوں میں بانٹ دوں؟

    جواب نمبر: 170129

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:580-544/sn=7/1440

     سوال میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ پانچ لاکھ رو پئے جو حرام کے ہیں وہ کس طرح سے حاصل کردہ ہیں؟ بہرحال اگر یہ رقم جوا سٹہ، رشوت وغیرہ سے حاصل کردہ ہیں؟ تو مفتی بہ قول کے مطابق صورت مسؤولہ میں اگر آپ پانچ لاکھ روپئے جو حرام کے تھے ان کے مالک کو دیدیں یا (بہ صورت تعذر) مالک کی جانب سے صدقہ کردیں تو آپ کا ذمہ فارغ ہوجائے گا اور بقیہ مال آپ کے لئے حلال رہے گا۔

    (قولہ اکتسب حراما إلخ) توضیح المسألة ما فی التتارخانیة حیث قال: رجل اکتسب مالا من حرام ثم اشتری فہذا علی خمسة أوجہ: أما إن دفع تلک الدراہم إلی البائع أولا ثم اشتری منہ بہا أو اشتری قبل الدفع بہا ودفعہا، أو اشتری قبل الدفع بہا ودفع غیرہا، أو اشتری مطلقا ودفع تلک الدراہم، أو اشتری بدراہم أخر ودفع تلک الدراہم. قال أبو نصر: یطیب لہ ولا یجب علیہ أن یتصدق إلا فی الوجہ الأول، وإلیہ ذہب الفقیہ أبو اللیث، لکن ہذا خلاف ظاہر الروایة فإنہ نص فی الجامع الصغیر: إذا غصب ألفا فاشتری بہا جاریة وباعہا بألفین تصدق بالربح. وقال الکرخی: فی الوجہ الأول والثانی لا یطیب، وفی الثلاث الأخیرة یطیب، وقال أبو بکر: لا یطیب فی الکل، لکن الفتوی الآن علی قول الکرخی دفعا للحرج عن الناس اہ. وفی الولوالجیة: وقال بعضہم: لا یطیب فی الوجوہ کلہا وہو المختار، ولکن الفتوی الیوم علی قول الکرخی دفعا للحرج لکثرة الحرام اہ وعلی ہذا مشی المصنف فی کتاب الغصب تبعا للدرر وغیرہا (الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) 7/490،ط: زکریا، دیوبند)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند