متفرقات - دیگر

India

سوال # 161104

پہلے ٹی وی پر ناچ گانے ، جھوٹے ڈرامے وغیرہ آتے تھے ... اس لئے ہم نے ٹی وی کو گھر سے نکال دیا تھا... مگر آج کل بڑے بڑے علماء کرام کے بیانات بھی آتے ہیں... اب گھر والے علماء کرام کے بیانات دیکھنے کے بہانے ٹی وی لانے کو کہہ رہے ہیں... کیا میں علمائے کرام کے بیانات دیکھنے کے لئے گھر پر ٹی وی لاسکتا ہوں ؟ مجھے ایک عالم صاحب نے بتایا کہ علمائے کرام کا ٹی وی ، واٹسیپ، یوٹوب وغیرہ پر بیانات دینا صحیح نہیں ہے ... ان کا کہنا ہے کہ اس سے تصویر کشی کا گناہ ہوتا ہے اور ان علماء کرام کو نامحرم عورتیں بھی دیکھتی ہیں اور شریعت میں کسی نامحرم کو دیکھنا ناجائز ہے ... ان عالم صاحب کی بات کہاں تک درست ہے ؟

Published on: May 20, 2018

جواب # 161104

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1090-992/L=9/1439



آپ نے ٹی وی کو گھر سے نکال کر اچھا کیا ،آپ گھر والوں کی باتوں کے چکر میں ہرگز نہ پڑیں،ٹی وی پر علماء کے بیانات دیکھنا بھی کراہت سے خالی نہیں۔ قال في أحکام القرآن: قولہ ”قُلْ لِّلْمُوٴْمِنَاتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِہِنَّ“ قال ابن کثیر من أي عما حرم اللّٰہ علیھن من النظر إلی غیر أزواجہن ولہٰذا ذہب کثیر من العلماء إلی أنہ لا یجوز للمرأة النظر إلی الرجال الأجانب بشہوة ولا بغیر شہوة أصلاً، واحتج کثیر منہم بما رواہ أبواداوٴد والترمذي من حدیث الزہري عن نبہان مولی أم سلمة رضي اللہ عنہا أنہ حدثہ أن أم سلمة رضي اللہ عنہا حدثتہ ”أنہا کانت عند رسول اللّہ صلی اللہ علیہ وسلم ومیمونة قالت فبینما نحن عندہ أقبل ابن أم مکتوم فدخل علیہ وذلک بعد ما أمرنا بالحجاب فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احتجبا منہ فقلت یا رسول اللہ ألیس ہو أعمی لا یبصرنا ولا یعرفنا فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أو عمیاوان أنتما أو لستما تبصرانہ“ (احکام القرآن: ۳/۴۲۲)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات