متفرقات - دیگر

India

سوال # 161074

میوچل فنڈ میں پیسہ لگانا کیسا ہے؟ اس کاطریقہ یہ ہے کہ میوچل فنڈ میں ہم پیسہ میوچل فنڈ کمپنی کو دیتے ہیں جو ہمارے پیسوں کو شیئر مارکیٹ میں لگاتی ہے اپنی مرضی سے۔ ہم کمپنی کو اختیار دیتے ہیں کہ وہ ہمارے پیسوں سے کسی بھی کمپنی کا شیئر خرید سکتے ہیں جس میں کبھی نفع ہوتا ہے کبھی نقصان، جو ہم کو ہمارے اکاوٴنٹ میں دکھتا ہے۔ یہ سارا انویسٹمنٹ فنڈ منیجر کرایا ہے۔ میوچل فنڈ میں لگا ہوا پیسہ فنڈ منیجر کئی کمپنیوں میں شیئر خرید کر انویسٹ کرتا ہے جس سے زیادہ نقصان کا خطرہ کم ہو جاتا ہے کیونکہ کچھ شیئر نفع دیتے ہیں کچھ نقصان، ہمارا پیسہ کئی کمپنیوں میں لگا ہے اور کتنا فیصد لگا ہے یہ ہم میوچل فنڈ کی ماہانہ رپورٹ میں ویب سائٹ پر دیکھ سکتے ہیں۔ میرا سوال ہے کہ:
(۱) کیا ایسے میوچل فنڈ میں پیسہ لگا سکتے ہیں؟ جو ہمارا پیسہ صرف حلال کمپنی میں لگاتی ہے کیونکہ کچھ میوچل فنڈ سیکٹرل ہے جیسے ٹرانسپورٹیشن فنڈ (نقل و حمل فند) جس میں فنڈ منیجر پیسہ صرف گاڑیوں کی کمپنی میں لگاتا ہے جو کہ حلال ہے۔
(۲) کچھ میوچل فنڈ سیکٹرل نہیں ہوتے بلکہ وہ جائز کمپنی کے ساتھ بینک کے شیئر میں بھی پیسہ لگاتے ہیں، ان کا کیا حکم ہے؟
(۳) کچھ میوچل فنڈ ایسے بھی ہیں جن میں انویسٹمنٹ پر انکم ٹیکس میں کمی ہوتی ہے لیکن وہ ہمارا کچھ پیسہ بینک وغیرہ کے شیئر میں لگاتے ہیں جس کو ہم اسٹیٹمنٹ سے معلوم کرسکتے ہیں کہ کتنے فیصد ہمارے پیسے کا بینک میں لگا ہے، تو کیا انکم ٹیکس بچانے کے لئے ایسے میوچل فنڈ س میں پیسہ لگا سکتے ہیں؟ اور نفع جو ہوگا وہ حلال ہوگا یا حرام؟ ساتھ میں تطہیر کا کیا طریقہ ہوگا؟

Published on: May 10, 2018

جواب # 161074

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:888-750/N=8/1439



(۱): کسی بھی کمپنی یا ادارے میں سرمایہ کاری کرنا اس وقت جائز ہوتا ہے جب تحقیق سے معلوم ہوجائے کہ کمپنی یا ادارے کا کاروبار اور اس میں سرمایہ کاری کا طریقہ شریعت کے مطابق ہے؛ اس لیے جس میوچل فنڈ میں فنڈ منیجر حلال کمپنی میں پیسہ لگاتا ہے، اس میں پیسہ لگانے کا طریقہ اور اس کے اصول وضوابط کیا ہوتے ہیں؟ نفع ونقصان کی تقسیم کس طرح ہوتی ہے؟ اور سرمایہ کار کو تمام تفصیلات جاننے اور معلوم کرنے کے لیے کیا طریقہ اختیار کرنا ہوتا ہے ؟ تمام باتیں وضاحت کے ساتھ لکھیں، اس کے بعد إن شاء اللہ اصل سوال کا جواب دیا جائے گا۔



(۲): جن میوچل فنڈس میں پیسہ بینک کے شیئرمیں بھی لگایا جاتا ہے، ان میں سرمایہ کاری جائز نہیں؛ کیوں کہ بینک کا بنیادی کاروبار سودی لین دین کا ہوتا ہے۔



وھو-شراء الأسھم البنک الربوي- حرام؛لأن نشاطہ الأساسي محرم فلا یجوز تداول أسھمہ بیعاً وشراء (فقہ البیوع ص ۱۰۶۱، ط:مکتبة معارف القرآن کراتشي)،نیز فقہی مقالات (۱: ۱۴۴، مطبوعہ: زم زم بک ڈپو،دیوبند) دیکھیں۔



(۳): اس سوال کے جواب کے لیے بھی نمبر ایک میں ذکر کردہ وضاحت طلب امور کی وضاحت ضروری ہے ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات