متفرقات - دیگر

India

سوال # 161039

میں اپنی بیوی اور دو بچوں کے ساتھ رہتانوکری کرتا ہوں جبکہ میری بیوی گھر پر چھوٹے بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی ہے ،میری بیوی الحمداللہ نہایت محنتی بہت سمجھدار نیک اور نماز روزے کی پابند ہے ، خدمت گزار بھی بہت ہے ، حالانکہ بہت ہمت والی بھی ہے لیکن short tempered بہت ہے ۔ بہت جلد اس کو غصہ آتا ہے ، یہ معاملہ اس کا سب کے ساتھ رہتا ہے چاہے پہر وہ بچے ہوں میں ہوں گھر کے کوئی اور لوگ ہوں یا پھر اس کے ہی والد والدہ یا بھائی ہوں.جہاں اس کے حساب سے لگا کہ کچھ غلط ہورہا ہے وہیں وہ اول فول کہنے لگتی ہے ۔مصلحتا"کسی کام کو کرنا یا بڑوں کے سامنے خاموش رہنا اسے نہیں آتا۔ میری اولادیں ماشا اللہ ۱۰ سال کی ہیں اسلامی اسکول میں پڑھتے ہیں۔ جڑواں ہیں اس لئے ان کی پیدائش کے وقت بیگم کی صحت بہت خراب رہنے کی وجہ سے بے انتہا مسائل پیدا ہوئے تھے حتیٰ کہ بیوی کی جان تک کو خطرہ لاحق ہوگیا تھا. لیکن جب میں یہ دیکھتا ہوں کہ بچوں کو جب وہ ڈانٹتی ہے تو پھراس کی زبان ہمہشہ بگڑ جاتی ہے اور زبان سے ہمیشہ برے اور الفاظ نکلتے ہیں۔ ڈانٹے وقت ہمیشہ وہ بچوں کو کمینے ... نیچ ... کتے ... کثرت سے کہتی ہے جس سے پہر ہم رونوں میں بڑی بحث ہوتی ہے . دو چار منٹ میں وہ بچوں کی طرف سے نارمل ہوجاتی ہے ان کو پہر بے انتہا پیاربھی کرتی ہے ۔ میرا یی کہنا رہتا ہے کہ بچوں کو ایسی گالیاں دینا مناسب نہیں.دعا کی قبولیت کے اوقات کا ہمیں پتہ نہیں رہتا۔ پتہ نہیں ماں کی کونسی دعا قبول ہوگی۔کئی مثالوں سے سمجھاتا ہوں۔ لیکن کہنے پر بھی نہیں مانتی، میری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ میں کس طرح اسے سمجھاؤں، جناب مدلل قران حدیث کی روشنی میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔ اس ویب سائیٹ کو وہ پابندی سے دیکھتی ہے ۔ شاید آگے سے وہ زبان پر قابو رکھے ،اور پھر مجھے بھی رہنمائی حاصل ہو۔

Published on: May 15, 2018

جواب # 161039

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:927-794/N=8/1439



غصہ میں آدمی کا آپے سے باہر ہوجانا اور زبان سے اول فول بکنے لگنا، روحانی بیماری ہے، اس کا علاج ضروری ہے؛ ورنہ آدمی بعض مرتبہ دینی یا دنیوی کسی بڑی مصیبت یا پریشانی کا شکار ہوجاتا ہے، آپ اپنی بیوی کو سمجھائیں کہ غصہ کی اصلاح بھی، نیکی کا حصہ ہے، جیسے آپ نماز، روزہ اور دیگر نیک کاموں کا اہتمام کرتی ہیں، اسی طرح غصہ پر بھی قابو پانے کی کوشش اور ہمت کریں اور بچوں کو یا کسی کو بھی ہرگز گالیاں نہ دیا کریں اور نہ اول فول بکا کریں، یہ خطرناک چیز ہے۔ اگر آپ کی بیوی نے غصہ کی قباحت سمجھ لی اور یہ طے کرلیا کہ بیجا غصہ نہیں کرنا ہے اور ضرورت پر جب غصہ کرنا ہوگا تو اپنے کو کنٹرول میں رکھوں گی تو اس کے لیے غصہ پر قابو پانا کچھ مشکل نہ ہوگا،اور حدیث میں غصہ کا علاج یہ بتایا گیا ہے کہ جب کسی کو غصہ آئے تو وضو کرلے ؛ کیوں کہ غصہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے اور شیطان آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آگ پانی سے بجھتی ہے، اور اگر غصہ کرنے والا کھڑا ہو تو بیٹھ جائے اور بیٹھا ہو تولیٹ جائے (مشکوة شریف، ص: ۴۳۴، مطبوعہ: مکتبہ اشرفیہ دیوبند) اور آپ اپنی بیوی کے لیے دعا بھی کریں، إن شاء اللہ فائدہ ہوگا اور آپ کی بیوی کی اصلاح ہوگی۔ اللہ تعالی ہم سب کی اصلاح فرمائیں۔آمین یا رب العالمین۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات