متفرقات - دیگر

India

سوال # 158795

ایک مسئلہ دریافت کرنا ہے کہ کیا موبائل میں ہو یا نجی گفتگو میں سامنے والے کی بات کو بغیر اس کے علم کے ٹیپ ریکارڈ کرنا اور اس کی اجازت کے بغیر اس کا نشر کرنا شریعت میں کیاحکم رکھتا ہے ؟جبکہ اس سے اس کی یا کسی اور کی شخصیت داغدار ہوتی ہو نیز جب کے سامنے والا اس کو پسند بھی نہ کرتا ہو ۔ جواب مدلل مطلوب ہے ۔

Published on: Feb 12, 2018

جواب # 158795

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 536-433/sd=5/1439



موبائل یا نجی گفتگو کی بات دوسرے کی اجازت کے بغیر ریکارڈ کرنا اور اُس کو نشر کرنا جائز نہیں ہے ،یہ امانت کے خلاف ہے ، نجی مجلس یا موبائل پر عموما ایسی بات کی جاتی ہے ، جس کو عمومی طور پر نہیں کہا جاتا ، اس لیے یہ باتیں راز ہی کی قبیل کی ہوتی ہیں، آج کل اس میں بے احتیاطی برتی جارہی ہے ،مسلمانوں کو اس میں محتاط کرنا چاہیے ، ایک حدیث میں کہ اگر کوئی شخص گفتگو کر رہا ہو اور درمیان میں وہ ادھر ُدھر دیکھنے لگے (کہ کوئی اس کی بات سن تو نہیں رہا )تو اس کی بات کو امانت سمجھنا چاہیے ۔اذا حدث الرجل الحدیث، ثم التفت، فہی أمانة ۔ ( ترمذی ) 



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات