متفرقات - دیگر

India

سوال # 158631

اپنی زوجہ کو میں غیر موٴجل مہر کی ادائیگی دس سال بعد کرتا ہوں تو وہ کہتی ہے کہ دس سال پہلے سونا بیس ہزار کو تھا اور اب تیس ہزار کو ہے تو میرے مہر دس ہزار کے تھے یعنی پانچ گرام سونا کی رقم اس وقت پانچ گرام سونے کی رقم بنتی ہے پندرہ ہزار تو آپ مجھے پندرہ ہزار روپیہ ادا کریں، میں نے کہا کہ میں نے سونا نہیں باندھا تھا مہر میں روپیہ باندھا تھا ۔اس نے کہا تو کیا ہوا آپ نے دیر کرکے میرے مہر کی رقم کی ویلیو گرادی آپ نے اتنی دیر کیوں کی مہر کی ادائیگی میں کسی مفتی سے پوچھ کر ہی بتا رہی ہوں۔سوال یہ ہے کہ کیا مجھے سونے کی ویلیو سے مہر دینا پڑے گا ؟

Published on: Feb 12, 2018

جواب # 158631

بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa: 529-458/D=5/1439
تمام قرضوں اور واجبات کی ادائیگی میں شریعت نے ظاہری قیمت کا اعتبار کیا ہے نیز عرف اور رواج میں بھی یہی معتبر مانی جاتی ہے، ویلو کے گھٹنے بڑھنے کا اعتبار نہیں کیا جاتا لہٰذا جس قدر رقم بطور مہر کے آپ کے لیے مقرر تھی اتنی رقم ادا کرنا واجب ہوگا ویلو کے گھٹنے یا بڑھنے کا اعتبار نہیں کریں گے۔ بیوی کا مطالبہ بیجا اور غیر شرعی ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات