متفرقات - دیگر

India

سوال # 158507

کیا فرماتے ہیں علماء دین مفتیان اکرام مسئلہ ھذا کے بارے میں کہ ہماری مسلم خواتین اپنے چھوٹے بچوں کیلئے بازار سے ضرورت کی چیزیں مثلاً جھولا، بلینکیٹ وغیرہ خریدتی ہیں جس پر جانداروں (کتے ، بھالو) وغیرہ کی تصویریں چھپی ہوئی ہوتی ہیں، بہت سی خواتین اس کی وعید سے ناعلمی کی صورت میں اور بہت سی خواتین حالت مجبوری (اس کا متبادل نہ ہونے ) کی صورت میں ایسی چیزیں خریدتی ہیں، لہذا ایسا کرنا کس حد تک درست ہے ؟ اس تعلق سے شرعی رہنمائی مطلوب ہے ۔ حدیث میں ذکر جس گھر میں کتا یا تصویر ہو اس گھر میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے ۔

Published on: Feb 5, 2018

جواب # 158507

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 630-578/H=5/1439



اسلام میں جاندار کی تصویر کشی ناجائز وحرام ہے، اسی طرح تصویر والی اشیاء کا پہننا، پہنانا بھی جائز نہیں ہے حدیث شریف میں ہے کہ جس گھر میں تصویر یا کتا ہو، اس میں فرشتے نہیں آتے ہیں؛ اس لیے جاندار کی تصویر والے سامان بالکل نہ خریدیں، اگر مجبوری ہو اور بغیر جاندار کی تصویر والاسامان دستیاب نہ ہو تواس جاندار کی تصویر کو مٹادیں پھر اس کو استعمال کریں عن أبي طلحة عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: لا تدخل الملائکة بیتا فیہ کلب ولا تصاویر (متفق علیہ) مرقاة المفاتیح: ۸/ ۳۲۳، ط: دار الکتب العلمیة) عن عائشة رضي اللہ عنہا قالت: قدم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من سفر، وقد سترت سہوة لی بقرام فیہ تماثیل، فلما رآہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہتکہ وقال: أشد الناس عذابا یوم القیامة الذین یضاہون بخلق اللہ (صحیح البخاري، باب ما وطی من التصاویر) وأما اتخاذ المصور فیہ صورة حیوان فإن کان معلقًا علی حائط أو ملبوسا أو عمامة ونحو ذلک مما لا یعد ممتہنا فہو حرام (شرح مسلم للنویی حدیث أبي طلحة)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات