متفرقات - دیگر

Pakistan

سوال # 158426

شریعت میں جو جنایة کا تصور ہے اس کے بارے میں ایک مسئلہ کا حل چاہئے۔
آج کل کا زمانہ سوشل میڈیا کا زمانہ ہے، اگر آج کے اس جدید دَور میں کوئی شخص کسی کو فیس بک پر فرینڈ کی ریکویسٹ (دوست بنانے کے لیے) بھیج دے، تو اگر اس شخص کو اس فرینڈ ریکویسٹ سے اذیت یا ذہنی تکلیف ہو جائے تو اس قسم کی تکلیف کو اسلام نے جنایة علی مادون النفس میں شمار کیا ہے یا نہیں؟ اگر کیا ہے، تو اس کی سزا کیا ہے؟

Published on: Feb 10, 2018

جواب # 158426

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:595-526/L=5/1439



حدیث شریف میں ہے کہ مسلمان وہ ہے کہ جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں؛ اس لیے کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ ہاتھ زبان وغیرہ سے کسی مسلمان کو تکلیف پہنچائے، اگر کسی نے اس طرح کی کوئی حرکت کردی ہو جس سے دوسرے کو تکلیف پہنچ گئی ہو تو اس کو چاہیے کہ اس سے معافی تلافی کرلے، اس کو جنایت علی مادون النفس میں شمار کیا جاسکتا ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات