متفرقات - دیگر

INDIA

سوال # 147363

واٹس ایپ کا استعمال کرنے والا تصویر کشی سے بچ نہیں پاتا۔واٹس ایپ کی پروفاّل پکچر ، سیلفی، ویڈیو گرافی وغیرہ سے تصویرکشی بے انتہا عام ہوٰی ہے ۔ اور تصویرکشی حرام ہے ۔اس کے علاوہ بھی اس کے بے شمار دینی نقصانات ہیں۔ جیسے ٹیلیویژن کے دینی نقصانات اس کے فواٰد سے زیادہ ہیں اسی طرح واٹس ایپ کے دینی نقصانات بھی اس کے فواٰد سے زیادہ ہیں پھر اس کا استعمال شرعی حدود میں رہتے ہوے مباح کیوں ہے جبکہ ٹیلیویژن کے استعمال سے متعلق دیوبند کا موقف ہرحال میں نا جائز کا ہے ۔

Published on: Jan 8, 2017

جواب # 147363

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 308-284/Sn=4/1438



 



”واٹس ایپ“ کا استعمال جائز اور مباح مقاصد میں ہوسکتا ہے اور کرنے والے کرتے بھی ہیں؛ اس لیے اگر کوئی شخص جاندار کی تصویر کھینچنے یا اس کے بھیجنے سے احتیاط کرتا ہوا ”واٹس ایپ“ کا استعمال کرتا ہے تو اس کے لیے اس کا استعمال جائز اور مباح ہوگا؛ البتہ جن لوگوں کو اپنے اوپر کنٹرول نہیں ہے، ابتلائے معصیت کا اندیشہ ہونے کی وجہ سے ان کے لیے استعمال نہ کرنا ہی اولیٰ اور بہتر ہوگا، رہی ”ٹی وی“ تو اس کا بنیادی مقصد ہی لہو ولعب ہے، نیز اس کا کوئی بھی پروگرام شاید ہی معصیت (محرّم تصاویر، گانا، میوزک وغیرہ) سے خالی ہو، اگر کوئی معصیت سے بچ کر اس کا استعمال کرنا چاہے تو یہ ناممکن کی طرح ہے؛ اس لیے ٹی وی کا استعمال بہرحال ناجائز ہی رہے گا۔



----------------



جواب صحیح ہے البتہ مزید یہ عرض ہے کہ مطلق کسی جاندار کی تصویر حرام ہے خواہ وہ مرد کی ہو یا عورت کی۔ (ن)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات