متفرقات - دیگر

India

سوال # 146659

(۱) کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اگر ہم دنیوی پڑھائی اس نیت سے پڑھیں کہ ہم اپنی پڑھائی کو اسلام کو پھیلانے میں استعمال کریں گے تو ہمیں بخاری اور مشکاة شریف کے پڑھنے کا ثواب ملے گا؟
(۲) کیا قرآن کریم آیت ”اقْرَأْ بِاسْم …کی ترجمہ/ تفسیر اس طرح سے کرنا درست ہے کہ دنیوی تعلیم حاصل کرو؟ اور کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ اللہ نے ہمیں دنیوی تعلیم حاصل کرنے کا حکم دیاہے؟
(۳) اور کیا اچھی نیت سے دنیوی تعلیم حاصل کرنے میں قرآن و حدیث کے سیکھنے کا ثواب ملے گا؟

Published on: Jan 8, 2017

جواب # 146659

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 228-283/Sn=4/1438



 



کچھ لوگوں کی بات اپنے عموم کے ساتھ صحیح نہیں ہے، قرآن وحدیث کا علم حاصل کرنا بہرحال افضل وبرتر ہے؛ بلکہ بہ قدر ضرورت دینی علم حاصل کرنا ”فرض عین“ ہے اور دنیوی پڑھائی کو یہ درجہ حاصل نہیں ہے، ہاں خاص احوال کے تحت کسی بڑے اجتماعی مفاد کے پیش نظر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس موقع پر دنیوی پڑھائی میں بھی ثواب ملے گا۔



(۲) اس آیت کی مذکور فی السوال تفسیر صحیح نہیں ہے، معتبر مفسرین نے اس کی جو تفسیر بیان کی ہے وہ ہے کہ اس آیت کا مقصد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا حکم دینا ہے کہ وہ جب بھی قرآن کریم پڑھیں اس سے پہلے بسم اللہ الرحمن ضرور پڑھ لیا کریں۔ (دیکھیں: بیان القرآن اور معارف القرآن وغیرہ)



(۳) اس کا جواب سوال نمبر ایک کے جواب کے ضمن میں لکھا جاچکا ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات