متفرقات - دیگر

india

سوال # 146589

بریلوی حضرات، مفتی رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ پہ الزام لگاتے ہیں کہ انہوں نے دیوالی کی مٹھائی کو کھانا جائز کہا ہے ، (فتاوی رشیدیہ ص: 575)اور دوسرا الزام لگاتے ہیں کہ فاتحہ کی شربت اور مٹھائی وغیرہ کھانا ناجائز ہے ۔(فتاوی رشیدیہ ص:120)۔برائے مہربانی اس کی وضاحت کریں۔ کیا یہ صحیح ہے ؟

Published on: Dec 17, 2016

جواب # 146589

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 196-124/SN=3/1438



 



(الف) فتاوی رشیدیہ میں غیر مسلم کی طرف سے ہولی یا دیوالی کے موقع پر ”بہ طور تحفہ“ جو کھانا وغیرہ بھیجتے ہیں اس کے متعلق حکم شرعی دریافت کیا گیا ہے، حضرت گنگوہی رحمہ اللہ نے اس کے کھانے کو درست لکھا ہے، ظاہر ہے کہ اس کھانے میں حرام ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے؛ کیوں کہ یہ ”چڑھاوا“ نہیں ہوتا، عام ”تحفہ“ ہوتا ہے، اگر ”چڑھاوا“ ہو تو اس کے حرام ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔



(ب) فتاوی رشیدیہ میں یہ نہیں لکھا ہے کہ فاتحہ کی شربت اور مٹھائی وغیرہ کھانا جائز نہیں ہے، اس (ص: ) میں تو یہ لکھا ہے کہ ”محرم میں ذکر شہادت حسین علیہ السلام کرنا اگر چہ بروایات صحیحہ ہو یا سبیل لگانا شربت پلانا یا چندہ ”سبیل“ اور شربت میں دینا یا دودھ پلانا سب نادرست اور تشبہ روافض کی وجہ سے حرام ہیں“ اس میں اگر کوئی اشکال ہوتو تحریر کریں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات