متفرقات - دیگر

India

سوال # 146

کیا نبی کا خون پینا جائز ہے یا نہیں؟ اگر ہاں، تو حدیث کو ثبوت کے طور پر پیش فرمائیں۔

Published on: Feb 1, 2016

جواب # 146

بسم الله الرحمن الرحيم

(فتوی: ۲۷۸/ھ= ۴۷۲/ھ)

عملاً تو اس مسئلہ سے امت کا کچھ بھی تعلق نہیں، اس لیے آپ کا سوال بالکل ہی مہمل اور بے معنی ہے، باقی رہا معاملہ اعتقاد کا سو اس سلسلہ میں دو امر قابل لحاظ ہیں: (الف) حضرت نبی ٴ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا خون پاک تھا یا نہیں؟ (ب) حضرات صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین میں سے خون مباک کا پی لینا ثابت ہے یا نہیں؟ امر اول کے متعلق عرض ہے کہ مذاہب اربعہ کے محققین اورامت کے اکابر و اعاظم کبار محدثین فقہائے کرام شراح حدیث کا اتفاق ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا خون مبارک پاک تھا، تفصیل کے لیے ملاحظہ کریں مستدرک حاکم: ج۳ ص۵۵۴، سنن کبریٰ للبیہقی: ج۷ ص۶۷، مجمع الزوائد: بروایت طبرانی و بزاز: ج۸ ص۲۷۰، سیر أعلام النبلاء للذہبی: ج۳ ص۳۳۶، الخصائص الکبریٰ: ج۲ص۲۵۲، فتاویٰ شامی: ج۱ص۲۱۸، مطبوعہ کراچی، منح الجلیل شرح مختصر الخلیل: ج۱ص۵۴، مغنی المحتاج:ج۱ص۷۹، نہایة المحتاج:ج۱ص۲۴۲۔

امر دوم کے متعلق عرض ہے کہ امام بیہقی رحمہ اللہ نے اپنی سنن کبریٰ کے کتاب النکاح میں ایک باب اس عنوان سے قائم فرمایا ہے ?باب ترکہ الانکار علی من شرب بولہ ودمہ? اور اس کے تحت حضرت امیمہ رضی اللہ عنہا، حضرت عبداللہ ابن زبیر اور حضرت سفینہ رضی اللہ عنہم کے واقعات ذکر فرمائے ہیں اس کے علاوہ الاصابة فی معرفة الصحابة: ج۳ص۳۴۶ میں بھی اس قسم کی تصریحات ہیں، کیا حضرات صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم نے حرام چیز کا استعمال کرلیا تھا؟ اور اگر ایسا مان بھی لیں تو حضرت نبی ٴ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کیا اس پر تنبیہ نہ فرماتے؟ جن کتب کا ہم نے حوالہ دیا ہے ان کی جلد و صفحہ نمبر بھی تحریر کردیا ہے آپ ان کتابوں کی طرف اطمینان سے مراجعت کریں، پھر جو کچھ اشکال رہے اس کو لکھ کر یہاں سے معلوم کریں۔ فقط

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات