• معاملات >> دیگر معاملات

    سوال نمبر: 8379

    عنوان:

    ایکشخص کے چار لڑکے اور نولڑکیاں ہیں۔ لڑکوں نے باپ کے ساتھ کام کرنا شروع کیا اور کاروبار بڑھ گیا۔ اب باپ لڑکوں کو تمام منافع مزید پوری تنخواہ دینا چاہتا ہے۔ لڑکوں نے کوئی پیسہ نہیں لگایاہے۔باپ آٹھ شادی شدہ لڑکیوں کو کوئی پیسہ نہیں دینا چاہتا ہے۔ کیا باپ شریعت کے مطابق ایسا کرسکتا ہے؟

    سوال:

    ایکشخص کے چار لڑکے اور نولڑکیاں ہیں۔ لڑکوں نے باپ کے ساتھ کام کرنا شروع کیا اور کاروبار بڑھ گیا۔ اب باپ لڑکوں کو تمام منافع مزید پوری تنخواہ دینا چاہتا ہے۔ لڑکوں نے کوئی پیسہ نہیں لگایاہے۔باپ آٹھ شادی شدہ لڑکیوں کو کوئی پیسہ نہیں دینا چاہتا ہے۔ کیا باپ شریعت کے مطابق ایسا کرسکتا ہے؟

    جواب نمبر: 8379

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1319=1125/ل

     

    باپ لڑکوں کی تنخواہ مقرر کرکے ان کو تنخواہ دے سکتا ہے، البتہ تمام منافع بھی لڑکوں کو دیدینا درست نہیں، لڑکیوں کو بھی اس میں شریک کرنا چاہیے، اور بہتر یہ ہے کہ سب پر برابر برابر نفع کو تقسیم کرے، البتہ اگر کسی مصلحت کے پیش نظر کسی کو زیادہ دیدے بشرطیکہ اس سے دوسری اولاد کو ضرر پہنچانا مقصود نہ ہو تو اس کی بھی گنجائش ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند