معاملات - دیگر معاملات

India

سوال # 163702

اگر میں مکان مالک کو 5لاکھ روپئے دے کر اس کے مکان میں کرایہ پر رہنے لگوں جس پر وہ کوئی کرایہ نہیں لیں گے اور جب میں سال کے آخر میں ان کا گھر خالی کردوں گاتو وہ مجھے میری پوری رقم واپس کردیں گے تو کیا معاملہ جائز ہوگا یایہ سود کے دائرے میں آئے گا؟

Published on: Aug 16, 2018

جواب # 163702

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1242-898/SN=12/1439



مذکور فی السوال معاملہ شرعاً جائز نہیں ہے، یہ ”قرض“ سے انتفاع کی شکل ہے، جسے حدیث میں ”ربا“ (سود) قرار دیا گیا ہے۔ کل قرض جرّ منفعة فہو ربا (مصنف بن ابی شیبہ)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات