معاملات - دیگر معاملات

India

سوال # 163692

ایک شخص اپنی دکان ایک کروڑ روپئے میں فروخت کرنا چاہتا ہے، اور خریدار کے پاس اتنی رقم فی الوقت موجود نہیں ہے، خریدار کے پاس ۳۵/ لاکھ روپئے کم ہیں جس کی وجہ سے وہ ۳۵/ لاکھ روپئے ہیوی ڈپوزٹ پر مجھے دینا چاہتا ہے، مجھ سے ۳۵/ لاکھ روپئے لے کر وہ شخص دکان اپنے نام کر لے گا، اور وہ دکان دو سال کے ایگریمنٹ پر مجھے دیدے گا، جس کا کوئی ماہانہ کرایہ بھی مجھے ادا نہیں کرنا ہوگا، اور دو سالہ بعد جب اس کے پاس ۳۵/ لاکھ روپئے کی رقم آجائے گی، وہ مجھے میرے روپئے لوٹا دے گا، اور اپنی دکان آپ سے تبھی میں لے لوں گا، کیا اس صورت میں ۳۵/ لاکھ روپئے ہیوی ڈپوزٹ میں میں وہ دکان کاروبار کرنے کے لئے لے سکتا ہوں؟

Published on: Sep 20, 2018

جواب # 163692

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1301-1243/sd=1/1440



ہیوی ڈپازٹ دے کر مفت رہائش لینا یا متعارف کرایہ سے کم پر کرایہ داری کا معاملہ کرنا جائز نہیں؛ کیوں کہ کرایہ داری کے معاملہ میں کرایہ دار ڈپازٹ کے نام پر مکان مالک کو جو رقم دیتا ہے ، وہ شرعاً بہ حکم قرض ہوتی ہے ،اور مکان مالک ڈپازٹ ہی کی بنیاد پراسے مکان کی مفت رہائش دیتا ہے یا اس سے متعارف کرایہ سے کم کرایہ لیتا ہے ؛ جب کہ شریعت میں قرض خالص تبرع اور احسان کا معاملہ ہے ،قرض کی وجہ سے مقروض سے کوئی بھی نفع حاصل کرنا جائز نہیں، وہ بہ حکم سود ہوتا ہے ؛ اس لیے صورت مسئولہ میں ہیوی ڈپازٹ دے کر مفت رہائش لینا یا متعارف کرایہ سے کم پر کرایہ داری کا معاملہ کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات