معاملات - دیگر معاملات

Pakistan

سوال # 161603

عرض ہے کہ دو بھائیوں نے مل کر ایک گھر لیا جس کی ملکیت میں دونوں بھائی 50٪ کے شراکت دار تھے اور سرکاری کاغزات میں بھی یہی اندراج ہوا۔بڑا بھائی اس میں اپنی فیملی کے ساتھ رہنے لگا اور چھوٹا بھائی روزگار کی وجہ سے دوسرے شہر میں کرائے کے گھر میں رہنے لگا۔ بڑے بھائی نے 8 سال تک اس میں رہائش رکھی اور اس دوران اس نے اپنی جیب سے پیسے خرچ کر کے اس گھر میں کچھ تبدیلی اوراضافہ کیا جس سے اس گھر کی قیمت میں اضافہ ہوا۔ 8 سال بعد دونوں بھائیوں نے وہ گھر بیچنے کا فیصلہ کیا تو بڑے بھائی نے جس نے اپنی جیب سے پیسے خرچ کر کے اس گھر میں ردوبدل کیا تھا۔اس نے مطالبہ کیا کہ جو رقم میری اس گھر کی آرائش میں خرچ ہوئی ہے ۔اس کا آدھا حصہ چھوٹا بھائی ادا کرے ۔چھوٹے بھائی نے جواب میں کہا :چونکہ آ پ نے اس گھر پر رقم خرچ کرتے وقت یہ طے نہیں کیا تھا کہ آدھا حصہ میں دوں گااس لئے میں آدھا حصہ دینے کا پابند نہیں ہوں ۔لیکن اگر آپ بضد ہیں کہ اس گھر پر خرچ کیا گیا آدھا حصہ میں دوں تو آپ پہلے اس گھر میں رہنے کا 8 سال کا کرایہ لگائیں اور اس کا آدھا حصہ ادا کریں جو فرق ہو گا(آرائش کی قیمت میں سے کرایہ کی رقم منہا کر کے )میں ادا کروں گا۔
1۔چھوٹا بھائی کہتا ہے چونکہ اس گھر کو خریدنے کے بعد اس پر لگایا گیا خرچ آدھا آدھا ادا کرنا ہے تو اس گھر کی آمدنی بھی آدھی آدھی کرنی چاہیے ۔جو آپ کرائے کی مد میں بچت کر تے رہے اور اس گھر میں لگاتے رہے اور میں اس گھر میں نہیں رہا۔کرائے کے گھر میں رہا۔
2۔ بڑے بھائی کا کلیم یہ ہے کہ چونکہ میں نے اپنی جیب سے اس گھر پر رقم خرچ کی ہے اس لیے میں کرایہ کیوں دوں؟ اب اسلام اور شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیے کہ : سوال۔ کیا بڑا بھائی 8 سال کا کرایہ دیے بغیر اس گھر کی آرائش میں خرچ کی گئی رقم لینے کا حقدار ہے ؟ کیا چھوٹے بھائی کو کرائے کے مطالبے سے دستبردار ہو کراس گھر پر لگایا گیا خرچے کا آدھا حصہ دے دینا چاہیے ؟ (نوٹ: گھر بیچنے سے 6 ماہ قبل بڑے بھائی نے اس گھر کو اپنے کسی رشتے دار کو کرایہ پر دیا۔اور اس 6 ماہ کا کرایہ بھی خود وصول کیا۔اس میں سے چھوٹے بھائی کو کچھ ادا نہیں کیا)۔ شکریہ

Published on: Aug 16, 2018

جواب # 161603

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1167-131T/L=11/1439



اگر چھوٹے بھائی نے بڑے بھائی کے اس مکان میں رہتے وقت کرایہ کا معاملہ طے نہیں کیا تو اب بڑے بھائی کے ذمہ کرایہ لازم نہیں ہے تاہم بڑے بھائی نے چونکہ اس مکان سے فائدہ اٹھایا اس لیے مصالحت کے پیش نظر چھوٹے بھائی کو کچھ رقم دیدینا چاہیے۔



(۲) بڑے بھائی نے مشترکہ مکان میں اپنی جو رقم لگائی ہے اس کے متعلق چھوٹے بھائی کو دو امر میں سے ایک امر کا اختیار ہے تو اپنے حصہ میں جو مکان آیا ہے اس میں بڑے بھائی کی بنائی ہوئی عمارت کو منہدم کرکے ملبہ بڑے بھائی کے حوالہ کردے بشرطیکہ اس کی وجہ سے مکان کو نقصان نہ ہو یا منہدم کیے بغیر ملبہ کی جو قیمت ہو وہ بڑے بھائی کو دیدے بڑے بھائی نے جب کسی تیسرے کے ہاتھ چھ مہینہ کے لیے مکان کرایہ پر دیا تو اس مدت کے کرایہ کے نصف کا وہ خود مستحق ہے اور دوسرے نصف کا مالک چھوٹا بھائی ہے جس کا ادا کرنا ضروری ہے۔



ولو کانت دار بین رجلین فلا باس أن یسکن أحدہما الجمیع (ہندیة: ۵/ ۲۴۵کتاب القسمة، ط: اتحاد دیوبند)



ذکر ہشام عن محمد - رحمہ اللہ تعالی - أرض بین رجلین بنے فبہا أحدہما فقال الآخر: ارفع عنہا بنائک فإنہ یقسم الأرض بینہما، فما وقع من البناء في نصیب الذي لم یبن، فلہ أن یرفعہ أو یرضیہ بأداء القیمة الخ (ہندیة: ۵/ ۲۶۷،کتاب القسمة، ط: اتحاد) (وکذا فی الہدایہ: ۴/ ۴۰۰، کتاب الشفعة، ط: اشرفیہ/ دیوبند)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات