معاملات - دیگر معاملات

India

سوال # 160714

میری ایک دوکان ہے، کرایہ پر دیا ہوں۔ کرایہ دار مجھ کو ۶/ ماہ کا زر ضمانت بھی دیا ہے جو مجھے کرایہ دار کو واپس کرنا ہے جب وہ دکان واپس کرے گا۔
میرا سوال یہ ہے کہ جو زر ضمانت مجھے ملی ہے کیا وہ میں خرچ کرسکتا ہوں یا وہ مجھے امانت سمجھ کر رکھنا ہے؟
دوسری بات، اگر اس دوران میں اللہ کو پیارا ہو گیا تو میری دکان اور کرایہ میرابھائی بہنوں کو جائے گا جو میرے وارث ہیں؟ مجھے اولاد نہیں ہے۔
ایسی صورت حال میں اگر میرے وارث جو زرضمانت کرایہ دار کا ہے واپس نہ کرے، تو کیا آخرت میں میں اس کا قرض دار ہوں گا؟ اور مجھے اللہ کو جواب دینا ہوگا؟ میں جتنا ہوسکا لکھا ہوں، امید کرتا ہوں مسئلہ آپ سمجھ گئے ہوں گے۔
مہربانی کرکے اس کا جواب جتنا جلد ہو بتادیجئے۔ جزاک اللہ

Published on: May 21, 2018

جواب # 160714

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 815-798/D=9/1439



زر ضمانت کی رقم جو بعض جگہ ڈپوزٹ کے نام سے متعارف ہے عرفاً مالک مکان اسے اپنے استعمال میں لے آتا ہے اس لئے ابتداءً یہ امانت اور رہن کے درجہ میں ہے لیکن چونکہ اس کا بدل واپس کرنا ہوتا ہے اس لئے قرض کے درجہ میں ہے پس آپ اسے پنے استعمال میں لاسکتے ہیں لیکن ورثا کو بتلادیں یا خود کرایہ دار کو تحریر دیدیں تاکہ وہ آپ کے انتقال کے بعد دکان خالی کرنے کے وقت تحریر دکھلا کر رقم وصول کرسکے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات