معاملات - دیگر معاملات

India

سوال # 159749

24/02/2018 ،امید کہ مزاج گرامی بعافیت ہوں گے کیا فرماتے ہیں علماء ربانیین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے سلسلے میں:
مسئلہ نمبر (1) ایک صاحب ہیں جنہوں نے RBL بینک کاCSP یعنی کسٹمرز سروس پوائنٹ لیا ہے جس کے حاصل کرنے میں جدوجہد کے ساتھ 15/20 ہزار روپے انہوں نے خرچ کیا ہے کسٹمرز کو سروس دینے کی صورتحال یہ ہے کہ کسٹمرز اپنا آدھار کارڈ لیکر ان کے آفس جاتا ہے اوراپنا فینگر دیتا ہے جس کے ذریعے سے وہ کسٹمرزکے کھا تے سے اپنے کھاتے میں رقم ٹرانسفر کرلیتے ہیں اور وہ رقم کسٹمرز کو دیدیتے ہیں اسی طرح اگر کسی کسٹمرز کو کہیں رقم بھیجنا ہوتا ہے یا اپنے ہی اکاؤنٹ میں جمع کرنا ہوتا ہے تو ان کے پاس جاکر وہ رقم جمع کردیتے ہیں اور وہ صاحب کسٹمرز کے دیئے ہوئے اکاؤنٹ نمبر پر اپنے اکاؤنٹ سے رقم جمع کردیتے ہیں اور اس سارے کام پر کسٹمرز کی رضامندی سے معاوضہ لیتے ہیں اور مزید یہ کہ RBL بینک بھی ان صاحب کو اس سارے کام پر کچھ تھوڑا سا کمیشن کے طور پر دیتی ہے جس سے اس صاحب کی بھی آمدنی ہوجاتی ہے اور کسٹمرز کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ کسٹمرز اے ٹی ایم اور بینکوں کی لمبی قطار میں دودو تین تین گھنٹے کھڑے ہونے سے بچ جاتے ہیں بالفاظ دیگر پریشانی اور مشکلات سے بچ جاتے ہیں۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا یہ کاروبار جائز ہے کسٹمرز اور بینک سے لیاہوامعاوضہ درست ہے یا نہیں؟
واضح ہوکہ بینک سے کسی طرح کا کوئی ماہانہ تنخواہ نہیں ملتی ہے ذرائع آمد بس یہی ہے اگر یہ بھی نہ لیا جائے تو اس کام سے اپنا کوئی فائدہ نہیں ہے فتاویٰ قاسمیہ کے حوالے سے ایک فتویٰ ملاکہ کسٹمر کو بینک یا اس کاذیلی ادارہ جوسہولیات یا خدمات فراہم کرتاہے اس کا معاوضہ کسٹمر کی رضامندی سے وصول کرنا درست ہے لیکن پھر بھی مناسب سمجھا کہ دارالعلوم سے رجوع کرلیا جائے ۔
مسئلہ نمبر (2) اٹل پینشن یوجنا یوجنا کی صورتحال یہ ہے کہ بینک والے کچھ رقم اکاؤنٹ ہولڈرز (جس کی عمر 18 سے 40سال ہو)کی رضامندی سے 60سال کی عمر تک ہر مہینے اکاؤنٹ سے ایک متعینہ رقم لیتے ہیں پھر جب اکاؤنٹ ہولڈرز کی عمر 60سال کو پہنچتی ہے تو متعینہ رقم جتنی تھی اس کے حساب سے عمر بھر پینشن دیتے ہیں مثال کے طور پر 250 روپیہ مہینہ لیتا ہے اور 60سال کے بعد 5000 روپیے مہینہ عمر بھر پینشن دیتا ہے ۔
دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا اس طرح کی یوجنا میں شامل ہونا جائز ہے ؟
مدلل جواب عنایت فرماکر ممنون فرمائیں کرم ہوگا

Published on: Apr 8, 2018

جواب # 159749

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:720-692/M=7/1439



(۱) کسٹمر سروس پوائنٹ کا کاروبار کرنے والا شخص یا ادارہ اگر سودی معاملات کا کام نہ کرے مثلاً فکس ڈپوزٹ اکاوٴنٹ نہ کھولے، دستاویزات، کھاتے اور رجسٹروں میں سودی حساب وکتاب نہ کرے اور نہ سودی معاملے پر گواہ بنے وغیرہ بلکہ صرف جائز اور مباح کاموں کو انجام دے مثلاً روپیہ ٹرانسفر کردے یا کرنٹ اکاوٴنٹ کھول دے وغیرہ اور اس پر طے شدہ معاوضہ کرے تو شرعاً اس کی گنجائش ہے۔



(۲) یہ یوجنا سودی ہے بالقصد اس کو اختیار کرنا اور اس میں شامل ہونا جائز نہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات