معاملات - دیگر معاملات

INDIA

سوال # 158157

حضرت، مجھے یہ معلوم کرنا ہے کیا میں قسطوں پر موٹر سائیکل لے سکتا ہوں یا نہیں؟

Published on: Jan 27, 2018

جواب # 158157

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:468-410/D=5/1439



اگر آپ کسی دکان دار یا کمپنی سے براہ راست قسطوں پر موٹر سائکل خریدیں، اس طور پر کہ گاڑی کی ایک قیمت متعین کرلی جائے، چاہے وہ قیمت نقد کی قیمت سے زائد ہی کیوں نہ ہو اور قسطوں کی ادائیگی کا وقت بھی متعین کرلیا جائے، اور وقت پر ادا نہ کرنے کی صورت میں زیادتی کی شرط نہ لگائی جائے، تو آپ کا اس طرح موٹر سائیکل خریدنا جائز ہوگا۔



البتہ اگر آپ بینک کے توسط سے خریدنا چاہتے ہیں، جس میں بینک اپنی ادا کی ہوئی رقم پر سود لیتا ہے، تو یہ ناجائز ہے، کیوں کہ اس میں آپ کو سود کی ادائیگی کرنی پڑے گی۔ وإذا عقد العقد علی أنہ إلی أجل کذا بکذا، وبالنقد بکذا أو قال إلی شہر بکذا أو إلی شہرین بکذا فہو فاسد․․․ وہذا إذا افترقا علی ہذا فإن کان یتراضیان بینہما ولم یتفرقا، حتی قاطعہ علی ثمن معلوم، وأتمّا العقد علیہ فہو جائز؛ لأنہما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد (المبسوط للسرخسی ۱۳/۹، ط: دار الکتب العلمیہ، بیروت، لبنان، وہذہ النسخة موجودہ في قسم دار الإفتاء)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات