معاملات - دیگر معاملات

India

سوال # 157040

حضرت، ہم نے ایک فلیٹ کے لیے 1,22,000 (10%) ڈاوٴن پیمنٹ کیا تھا، لیکن اس کے بعد حالات کچھ ایسے ہو گئے کہ اب آگے فلیٹ لینے کی امید نہیں ہے، اب کینسل کرانے پر پورا پیسہ بلڈر رکھ لے گا، اللہ کے واسطے کوئی طریقہ بتائیں کہ جس سے پیسہ واپس مل جائے۔

Published on: Dec 14, 2017

جواب # 157040

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:329-260/N=3/1439



دکان ،مکان ، فلیٹ اور پلاٹ وغیرہ کی خریداری میں ڈاوٴن پیمنٹ (بیعانہ) کے نام سے پیشگی طور پر ثمن کا جو حصہ ادا کیا جاتا ہے ، اگر کسی وجہ سے خرید وفروخت کا معاملہ تکمیل تک نہ پہنچ سکے تو بائع کے لیے اس کا ضبط کرلینا شرعاً جائز نہیں؛ بلکہ خریدار کو اس کا پورا پیسہ واپس کردینا ضروری ہے، پس صورت مسئولہ میں آپ کا بائع اگر مسلمان ہے تو آپ اسے شرعی مسئلہ بتائیں،إن شاء اللہ وہ آپ کا پورا پیسہ واپس کردے گا، اور اگر وہ غیر مسلم ہے تو آپ اس سے صرف درخواست کرسکتے ہیں اور الہ تعالی سے دعا، ممکن ہے کہ اس کا دل نرم ہو اور وہ آپ کو آ پ کا پورا پیسہ واپس کردے۔



 قال اللہ تعالی: یأیھا الذین آمنوا لا تأکلوا أموالکم بینکم بالباطل الآیة، ومن یفعل ذلک عدوانا وظلماً فسوف نصلیہ نارا وکان ذلک علی اللہ یسیراً (سورة النساء، رقم الآیة: ۲۹، ۳۰)، ونھی عن بیع العربان، أن یقدم إلیہ شییٴ من الثمن فإن اشتری حسب من الثمن وإلا فھو لہ مجانا وفیہ معنی المیسر(حجة اللہ البالغة، بیوع فیھا معنی المیسر،۲: ۲۸۸)، بیع العربان وصورتہ أن یشتري الرجل شیئاً فیدفع إلی المبتاع من ثمن ذلک المبیع شیئاً علی أنہ إن نفذ البیع بینھما کان ذلک المدفوع من ثمن السلعة، وإن لم ینفذ ترک المشتري بذلک الجزء من الثمن عند البائع ولم یطالبہ بہ، وإنما صار الجمہور إلی منعہ ؛لأنہ من باب الغرر والمخاطرة وأکل مال بغیر عوض (بدایة المجتھد،کتاب البیوع،الباب الرابع في بیوع الشرط والثنیا،۵:۸،ط: دار الکتب العلمیة بیروت) ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات