معاملات - دیگر معاملات

India

سوال # 156934

میرے پڑوسی کو پیسوں کی ضرورت ہے ، وہ ایک رقم کے بدلے اپنا مکان رہن پر دینا چاہتے ہیں جو مکان کی واپسی پر پوری رقم واپس کریں گے اور جس کا کرایہ کچھ بھی نہیں ہے ، میں اگر وہ مکان رہن پر لیتا ہوں تو 1) کیا یہ جائز ہے ؟
2) بغیر کرایہ کے کیا میں اس مکان کو استعمال کر سکتا ہوں؟
3)کیا اس مکان کو کرایہ پر دے کر اس کرایہ سے ملنے والی رقم استعمال کر سکتا ہوں؟
برائے کرم مع دلیل میری رہنمائی کریں۔

Published on: Dec 27, 2017

جواب # 156934

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:253-292/sd=4/1439



 (۱) آپ کے لیے پڑوسی کو قرض دے کر اُس کا مکان رہن پر رکھنا جائز ہے ۔



(۲) رہن پر رکھے ہوئے مکان کو استعمال کرنا جائز نہیں ہے ۔



(۳) رہن کے مکان کو کرایہ پر دینا بھی جائز نہیں ہے ۔ (لا انتفاع بہ مطلقا) لا باستخدام، ولا سکنی ولا لبس ولا إجارة ولا إعارة۔ ( الدر المختار مع رد المحتار : ۴۸۲/۶، ط: دار الفکر، بیروت ) ۔ 



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات