معاملات - دیگر معاملات

bangladesh

سوال # 156291

میرا سوال یہ ہے کہ ایک شخص نے کرایہ پر گھر میں رہتے ہیں، تین مہینے بعد وہ کرائے دار چل جانا چاہا، جاتے وقت مالک مکان کو۔ جمع ہوا کرائے بیس ہزار روپے دینے کے بجائے ایک لیپ ٹاپ دیا (جو دس یا بارہ ہزار روپے میں بیچا جائے گا ) اور کہا تھا کہ کچھ دن بعد بیس ہزار روپے دے کر لیپ ٹاپ لے جائیگا، لیکن تین مہینے گزر گیا وہ نہیں آیا، اور گمان ہے کہ وہ نہ آئے گا، تو جاننا چاہتا ہوں کہ اس حالت میں گھر کا مالک کرایہ بابت لیپ ٹاپ بیچ کر اپنے لئے خرچ کر سکتے ہیں ؟ بیچنے کے بعد اگر وہ کرائے دار آئے اور لیپ ٹاپ واپس کردینے کیلئے کہے ۔ تو اس وقت گھر کا مالک کو کیا کرنا چاہیے ؟
مہربانی کرکے ، ضرور اس بارے میں شریعت کی فیصلہ بحوالہ بیان کرے ۔ جزاکم اللہ احسن الجزاء .

Published on: Dec 25, 2017

جواب # 156291

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:236-272/sn=4/1439



صورت مسئولہ میں مالکِ مکان کو چاہیے کہ فون وغیرہ کے ذریعے رابطہ کرکے اس شخص کو یہ اطلاع دے کہ اگر یہ ”ادا نہ کرے گا تو ”لیپ ٹاپ“ بیچ کر کرایہ وصول کرلیا جائے گا، اگر کرایہ دار اطلاع کے باوجود ادا نہ کرے یا پھر اس سے مکان مالک کا رابطہ ہی نہ ہوسکے تو ان دونوں صورتوں میں مالک کے لیے (مزید ایک مناسب مدت گزرنے کے بعد ۔ن)شرعاً اس بات کی گنجائش ہے کہ ”لیپ ٹاپ“ فروخت کرکے کرایہ کی رقم وصول کرلے، بعد میں اگر کرایہ دار آتا ہے تو مالک کے ذمے ”لیپ ٹاپ“ واپس کرنا شرعاً لازم نہیں ہے۔ قال الحموي في شرح الکنز․․․ إن عدم جواز الأخذ من فلان الجنس کان في زمانہم لمطاوعتہم في الحقوق والفتوی الیوم علی جواز الأخذ عند القدرة من أيّ مالٍ کان لا سیّما في دیارنا لمداومتہم العقوق الخ (رد المحتار علی الدر المختار: ۹/۲۲۱، ط: زکریا) نیز دیکھیں: امداد الفتاوی (۳/۴۱۵، سوال: ۴۳۰)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات