معاملات - دیگر معاملات

India

سوال # 148359

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: زید نے بکر کو قرض کے طور پر ۱۰۰ بوری چینی دی۔ پھر جب ادائیگی قرض کی مدت پوری ہوگئی اور چینی ختم ہوگئی، تو بکر نے زید سے کہا کہ آپ اس چینی کو مجھ پر فروخت کرو، جو میں نے آپ سے بطور قرض لی تھی، لہٰذا میں چینی کے بجائے آپ کو اس کی قیمت دوں گا، تو شرعاً کیا یہ طریقہ جائز ہے؟

Published on: Jan 10, 2017

جواب # 148359

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 250-278/Sn=4/1438



جی ہاں! اگر قرض کی مدت پوری ہونے پر قرض خواہ چینی کے بہ جائے اس کی بازاری قیمت لینے پر راضی ہوجائے تو اس طرح معاملہ کرنا شرعاً درست ہے؛ لیکن اگر قرض خواہ قیمت لینے پر راضی نہ ہو تو قرض دار اسے مجبور نہیں کرسکتا۔ یستفاد مما فی الدر مع الرد: وصح بیع من علیہ عشرة دراہم دین ممن ہي لہ أي من دائنہ فصحّ بیعہ منہ دینارًا بہا اتفاقاً وتقع المقاصّة بنفس العقد؛ إذ لا ربا في دین سقط الخ (درمختار مع الشامي: ۷/ ۵۳۱، باب الصرف، ط: زکریا)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات